امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلی کشیدگی کی تفصیلات

ٹرمپ نے کشیدگی پر رد عمل میں کہا کہ "یہ بے ہودہ خلاف ورزی ہے"... وینس نے خبردار کیا کہ "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سوئٹزرلینڈ میں فریقین کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلا واقعہ ہے۔

واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام لگایا، جس کے جواب میں امریکہ نے متعدد اہداف پر حملے کیے۔ اس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فائرنگ کا یہ تبادلہ 17 جون کو دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ اس واقعے نے آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ فریقین 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے حتمی حل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ ان کی طرف سے میزائل، ڈرون اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائی... ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب ہے۔ ایرانی ٹیلی ویژن نے جنوبی ساحلی شہر سیرک میں دھماکے کی آواز سنے جانے کی اطلاع دی۔ تاہم مہر نیوز ایجنسی کے مطابق بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر جارحیت دہرائی گئی تو رد عمل زیادہ وسیع ہو گا۔

اس کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کی بحالی کی امید ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے متنبہ کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے اس بات کی مضبوط ضمانت ضروری ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ جوہری پروگرام اب بھی ایک بڑا اختلافی نقطہ ہے، خاص طور پر 60 فی صد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے تلف کرنے کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں