امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پچھلے دور صدارت میں مشیر رہنے والے اور اب نئی مدت صدارت میں ٹرمپ مخالف اور ناقد کے طور پر سامنے آنے والے جان بولٹن نے جج کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری خفیہ معلومات اپنے پاس رکھیں تھیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی پراسیکیوٹر کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ وہ ممکنہ سزا سے خود کو بچا سکیں۔
77 سالہ جان بولٹن کو اس مقدمے میں ضلعی جج سزا امکانی طور پر 28 اکتوبر کو سنائے گا۔ یہ مقدمہ گرین بیلٹ میری لینڈ کی عدالت کے ضلعی جج کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
متعلقہ قانون کے مطابق جان بولٹن کو خفیہ سرکاری معلومات اپنے ذاتی کنٹرول میں رکھنے کے جرم میں زیادہ سے زیادہ دس سال قید سنائی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کا پراسیکیوٹر کے ساتھ سزا میں تخفیف کے لیے کیے گئے معاہدے کی پابندی کرنا ضلعی جج کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اس لیے اگر جج نے سزا میں تخفیف کی درخواست اور معاہدے کو قبول نہ کیا تو جان بولٹن پراسیکیوٹر کے حوالے کی گئی اپنی درخواست اور ادا شدہ ہرجانے کی رقم واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
عدالت میں اعتراف جرم کے بعد جان بولٹن کے پراسیکیوٹر کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں ان کی سزائے قید کم ہونے کا اگرچہ امکان موجود ہے۔ لیکن پھر بھی حتمی فیصلہ جج ہی کرے گا۔
پراسیکیوٹر کے ساتھ معاہدے کے تحت لازم ہے کہ جان بولٹن کی سزائے قید دس کے بجائے پانچ سال ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جان بولٹن نے قبول کیا ہے سوا دو ملین ڈالر کی رقم ادا کرے گا۔
جان بولٹن کے لیے لازم ہو گا کہ معاہدے کے پانچ دن کے اندر اندر نصف رقم ادا کرے گا جبکہ بقیہ نصف رقم اگلے 90 دنوں میں ادا کرے گا۔ اس معاہدے کے حصے کے طور پر جان بولٹن کو فیڈرل انٹیلی جنس حکام کے سامنے ڈی بریفنگ کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔ نیز جان بولٹن کو ایک سو گھنٹے کے لیے سماجی خدمت بھی انجام دینا ہوگی۔
یاد رہے جان بولٹن نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اعتراف جرم کرتے ہوئے معافی بھی طلب کی ہے۔ امریکی دفاعی اٹارنی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ جان بولٹن نے وہی کیا ہے جو حقیقی لیڈر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس غلطی کی ذمہ داری قبول کی ہے جو ان سے ہوئی تھی۔
خیال رہے جان بولٹن کے خلاف الزام پچھلے سال ماہ اکتوبر کو سامنے آیا تھا۔ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کیا ہے۔ 'ایف بی آئی' کے ایجنٹوں نے میری لینڈ میں جان بولٹن کے گھر اور واشنگٹن میں دفتر کی تلاشی لی تھی۔ تحقیقات کا آغاز صدر ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آنے سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔
77 سالہ جان بولٹن صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی پہلی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں البتہ انہیں 2019 میں نکال دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ اس کتاب کی اشاعت رکوانے میں ناکام رہی تھی۔ اگرچہ اس کا دعویٰ تھا کہ کتاب میں امریکی سلامتی کے حوالے سے بڑی حساس معلومات شامل کی گئی ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں جنگ چاہنے والا اور امریکہ کو نئی عالمی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کرنے والا قرار دیا تھا۔