حزب اللہ نے لبنان کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پوری قوت سے مقابلہ کریں گے: اسرائیل

اسرائیلی وزیراعظم نے فریم ورک معاہدے کو تاریخی اور ایران اور حزب اللہ کے لیے دھچکا قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے دو قصبوں زوطر الغربیہ اور فرون سے پیچھے ہٹنا شروع کر دے گی تاہم اگر حزب اللہ نے لبنان کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسرائیل پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرے گا۔ نیتن یاہو نے امریکہ کی سرپرستی میں لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تعریف کی اور اسے ایک ایسا تاریخی کارنامہ قرار دیا جس نے ایران اور حزب اللہ کو دھچکا پہنچایا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک بریفنگ میں کہا کہ کل، ہم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بعد اسرائیل کی ریاست کے لیے ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، یہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے انکشاف کیا تھا کہ تجرباتی طور پر لبنان کے دو علاقوں سے فوج کے انخلا کی تاریخ زیادہ سے زیادہ کل تک کی ہوگی۔ اسرائیل اور لبنان فریم ورک معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق براہ راست رابطہ لائن کھولیں گے۔

ایران کو دھمکی

اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران کو اس صورت میں سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی اگر اس نے لبنان کے ساتھ معاہدے کے نفاذ کو روکنے کے مقصد سے تل ابیب پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ کاٹز نے کہا اگر ایران نے معاہدے کے نفاذ کو روکنے کے مقصد سے اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تو ہم اس کے خلاف بہت بڑی طاقت کے ساتھ کارروائی کریں گے اور ہم اپنے درمیان طاقت کے توازن میں موجود بڑے فرق کو ظاہر کریں گے، انہوں نے کہا اس حوالے سے بہت سے چیلنجوں کا سامنا متوقع ہے۔

یسرائیل کاٹز نے مزید کہا میں نے اور وزیر اعظم نے اسرائیلی فوج کو سکیورٹی زون میں طویل عرصے تک رہنے کی تیاری کرنے، فوجیوں کے تحفظ اور شمالی اسرائیل کے قصبوں سے خطرات کو دور کرنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ کی ثالثی اور تعاون سے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں