اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے دو قصبوں زوطر الغربیہ اور فرون سے پیچھے ہٹنا شروع کر دے گی تاہم اگر حزب اللہ نے لبنان کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسرائیل پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرے گا۔ نیتن یاہو نے امریکہ کی سرپرستی میں لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تعریف کی اور اسے ایک ایسا تاریخی کارنامہ قرار دیا جس نے ایران اور حزب اللہ کو دھچکا پہنچایا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک بریفنگ میں کہا کہ کل، ہم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بعد اسرائیل کی ریاست کے لیے ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، یہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے انکشاف کیا تھا کہ تجرباتی طور پر لبنان کے دو علاقوں سے فوج کے انخلا کی تاریخ زیادہ سے زیادہ کل تک کی ہوگی۔ اسرائیل اور لبنان فریم ورک معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق براہ راست رابطہ لائن کھولیں گے۔
وزير الدفاع الإسرائيلي حول لبنان: لقد أصدرتُ أنا ورئيس الوزراء تعليماتنا للجيش الإسرائيلي بالاستعداد للبقاء لفترة طويلة في المنطقة الأمنية pic.twitter.com/WFEo52FTvI
— العربية (@AlArabiya) June 27, 2026
ایران کو دھمکی
اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران کو اس صورت میں سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی اگر اس نے لبنان کے ساتھ معاہدے کے نفاذ کو روکنے کے مقصد سے تل ابیب پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ کاٹز نے کہا اگر ایران نے معاہدے کے نفاذ کو روکنے کے مقصد سے اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تو ہم اس کے خلاف بہت بڑی طاقت کے ساتھ کارروائی کریں گے اور ہم اپنے درمیان طاقت کے توازن میں موجود بڑے فرق کو ظاہر کریں گے، انہوں نے کہا اس حوالے سے بہت سے چیلنجوں کا سامنا متوقع ہے۔
یسرائیل کاٹز نے مزید کہا میں نے اور وزیر اعظم نے اسرائیلی فوج کو سکیورٹی زون میں طویل عرصے تک رہنے کی تیاری کرنے، فوجیوں کے تحفظ اور شمالی اسرائیل کے قصبوں سے خطرات کو دور کرنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ کی ثالثی اور تعاون سے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔