ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانا ہماری خودمختاری کا معاملہ: ایران کا میکرون کو جواب

امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی دفعات کے تحت سرنگیں ہٹانے کا کام تہران کے ذریعے انجام دیا جائے گا: کاظم غریب آبادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں پیرس کی شرکت کے متعلق بیانات کو مسترد کر دیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کام امریکہ کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کی دفعات کے تحت خصوصی طور پر تہران کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام صرف ایران کی طرف سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تہران کی واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے مطابق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال حساس اور پیچیدہ ہے۔ انہوں نے فرانس کو ایسے اقدامات کرنے سے خبردار کیا جو کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فرانس کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ کرے۔

میکرون کا اعلان

ایرانی ردعمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں میکرون نے کہا تھا کہ فرانس اور سلطنت عمان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے کام کریں گے۔ یہ کوششیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے اور اس اہم سمندری گزرگاہ میں جہاز رانی کی سکیورٹی اور آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے مقصد کا حصہ ہیں۔

میکرون نے پیرس میں عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کی بلاروک ٹوک نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ تکرار ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں امریکہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے بعد نئے انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اس بات پر مؤقف میں فرق ہے کہ کون اس آبنائے میں جہاز رانی کی سکیورٹی کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ یاد رہے اس آبنائے سے دنیا کی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے اور یہ دنیا کی اہم ترین سٹریٹجک سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

عملدرآمد کے طریقہ کار

اسی تناظر میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایک ایرانی تکنیکی وفد رواں ہفتے کے دوران دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے قطر کا دورہ کرے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ دورہ دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی ہم آہنگی کے فریم ورک کے تحت ہو رہا ہے۔ انہوں نے دوحہ کے لیے امریکی حکام کے دورے اور ایرانی وفد کے متوقع دورے کے درمیان کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی اور اصرار کیا کہ ہر راستے کا اپنا الگ ایجنڈا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران کا آنے والے دنوں میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے ہیں کیونکہ مفاہمت کی یادداشت میں شامل کچھ دفعات پر عملدرآمد اگلی منزل کی طرف بڑھنے سے پہلے اب بھی ایک بنیادی شرط ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size