جنوبی لبنان پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی
بنت جبیل کے دیہات میں گھروں کو نذر آتش کرنے کا واقعہ
اسرائیلی توپ خانے نے پہر جنوبی لبنان پر گولہ باری کی، جبکہ اسرائیلی فوج نے عیتا الجبل اور بیت یاحون کے دیہات میں کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا، اس دوران لبنانیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون نے جنوب لبنان کے قصبے عیتا الجبل پر ساؤنڈ بم گرایا جس کا مقصد زرعی ٹریکٹرز کے مالکان کو خوفزدہ کرنا تھا۔
قبل ازیں منگل کو ایک اسرائیلی ڈرون نے قصبہ حداثا میں ایک گھر اور برعشیت قصبے کے مشرقی حصے پر ساؤنڈ بم گرائے، جبکہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوب لبنان کے قصبے دیرسریان پر بھی فضائی حملے کیے۔
نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوب لبنان کے ضلع بنت جبیل میں عیتا الجبل اور بیت یاحون کے قصبوں میں گھروں کو نذر آتش کیا۔
اس سلسلے میں وزارت صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ سنہ 2026ء کے 2 مارچ سے 30 جون تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4278 تک پہنچ گئی ہے اور 12196 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان میں اس وقت پیش قدمی کی جب حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے ردعمل میں فائرنگ کی، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔
اسرائیلی فوج نے پوری اسرائیلی سرحد کے ساتھ ساتھ لبنانی حدود کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ایک بفر زون قائم کر رکھا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ شمال میں اپنی آبادی کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج نے مقامی آبادی کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا اور دیہاتوں پر چھاپے مارے جس کے نتیجے میں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے زیر زمین استعمال ہونے والی سرنگوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق سنہ 2026ء کے مارچ سے لبنان میں اسرائیلی عسکری مہم کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے ہاتھوں اب تک کم از کم 32 اسرائیلی فوجی اور چار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں جنوب لبنان میں ہوئیں۔
امریکہ کے دباؤ پر اسرائیل نے 19 جون کو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، لیکن پرتشدد کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
حزب اللہ نے بار بار اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر اعتراض اٹھایا ہے اور وہ ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے۔