یمن میں صدام حسین کی خفیہ بیٹی نے تنازع کھڑا کر دیا، رغد کا پہلا تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یمن میں "میرا" نام کی ایک خاتون نے دعویٰ کردیا ہے کہ وہ سابق عراقی صدر صدام حسین کی بیٹی ہے۔ اس دعوے کے بعد ایک نئی الجھن اور تنازع پیدا ہوگیا ۔ صدام حسین کی بیٹی رغد نے ان تمام دعووں کی تردید کردی ہے۔

رغد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک ایسی خاتون کے حوالے سے گردش کرنے والی تمام کہانیاں من گھڑت ہیں۔ خاتون جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ صدام حسین کی خفیہ بیٹی ہے۔

رغد نے یہ بھی واضح کیا کہ خاندان پہلے بھی کئی بار سابق عراقی صدر کے کسی بھی خفیہ بیٹے یا بیٹی کی موجودگی کی تردید کر چکا ہے۔ انہوں نے تمام میڈیا ہاؤسز سے درستی برقرار رکھنے کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ صدام حسین کے خاندان نے کبھی بھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا اور نہ کبھی کرے گا۔

میرا کی کہانی کیا ہے؟

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تقریباً 34 سال کی ایک خاتون، جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا نام "میرا صدام حسین" ہے، نے صنعا میں حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے گھر سے نکالے جانے کے بعد شیوخ اور قبائل سے مدد مانگنے کے لیے منظر عام پر آ کر یمن میں ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا۔

میرا گزشتہ مئی کے دوران ایک ویڈیو میں اپنے بالوں کی مینڈھیاں کاٹ کر ممتاز قبائلی شیخ حمد بن راشد فدغم الحزمی کے حوالے کرتی ہوئی نظر آئیں۔ وہ ان سے اور یمن کے قبائل سے اپنی حفاظت اور اپنے حقوق کی بحالی کے لیے مدد مانگ رہی تھیں۔ میرا نے اعلان کیا کہ مسلح عناصر نے انہیں صنعا کے معزز علاقے "حدہ" میں واقع ان کے "ولا" سے نکال دیا ہے اور ان کی گاڑیاں، زیورات اور عراقی دستاویزات ضبط کر لی ہیں۔

اس فریاد نے امن و امان کی صورتحال میں تناؤ پیدا کر دیا، خاص طور پر اس وقت جب صنعا میں حوثی حکام نے شیخ الحزمی اور "میرا" کو تقریباً 50 دنوں تک حراست میں رکھا۔ اس کے بعد وہ قبائلی دباؤ کے بعد الحزمی کو رہا کرنے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم تنازع یہیں نہیں رکا کیونکہ الحزمی دوبارہ گزشتہ 24 جون کو ایک ویڈیو میں شرعی حکومت کے زیر اثر علاقوں، مشرقی الجوف سے نمودار ہوئے، جہاں انہوں نے میرا کے ساتھ اپنے کھڑے ہونے کی تجدید کی اور ان پر کیے جانے والے دباؤ اور ہراسانی کے ہتھکنڈوں کی مذمت کی۔ اسی طرح شام میں بھی کچھ قبائل الحزمی کے دفاع میں متحرک ہو گئے۔

میرا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی کوآرڈینیشن کے ذریعے یمن فرار ہوئی تھیں۔ سابق یمنی صدر نے انہیں دارالحکومت صنعا میں رئیل اسٹیٹ پراپرٹیز، فنڈز اور تحفظ فراہم کیا تھا۔ دوسری طرف حوثی ملیشیا کے ماتحت حکام نے اعلان کیا کہ خاتون کا اصل نام سمیہ احمد محمد عیسیٰ الزبیری ہے اور وہ یمنی شہری ہیں جو صنعا کے علاقے هبرہ میں پیدا ہوئیں اور ان کے خاندان کی جڑیں ارحب ڈسٹرکٹ سے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے خاتون اور ان کے یمنی والدین (احمد الزبیری اور ان کی والدہ دولہ مازود) کے حیاتیاتی نمونے (ڈی این اے ) لیے اور نتیجہ بالکل مطابقت رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2023 میں صنعا کی ایک عدالت نے خاتون کو جعل سازی اور شناخت بدلنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا اور انہیں جیل کی سزا سنائی تھی۔ ساتھ ہی ان کے قبضے میں موجود جعلی دستاویزات کو تلف کرنے کا حکم دیا۔ تھا پھر اپریل 2025 میں اپیل کورٹ نے اس فیصلے کی توثیق کی اور اسی بنیاد پر انہیں ان رئیل اسٹیٹ اور جائیدادوں سے محروم کر دیا گیا جو انہوں نے ان کاغذات کی بنیاد پر حاصل کی تھیں جن کی صداقت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں