اسرائیلی جیل میں غیر قانونی قید کاٹنے والے ڈاکٹر وکلا اور انسانی حقوق گروپوں نے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی زندگی کو خطرے میں قرار دیا ہے۔ یاد رہے ڈاکٹر ابو صفیہ کو اسرائیلی فوج نے دسمبر 2024 میں غزہ میں قائم ہسپتال سے گرفتار کیا تھا۔ وہ بچوں کے خصوصی معالج ہونے کے علاوہ کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ہیں۔
ان کی گرفتاری کے خلاف ڈاکٹروں کی تنظیموں کے علاوہ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی آواز اٹھائی ۔ اب خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ادارے نے ان کی مسلسل قید کو اسرائیل کی غیر قانونی من مانی قرار دیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ انہیں فوری رہائی دی جائے اور ان کی اس ناجائز اور طویل قید کا انہیں ہرجانہ بھی دیا جائے۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے کے رپورٹ مرتب کرنے والے پینل نے اس معاملے میں گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ پینل نے قرار دیا ہے یہ قید یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل میں فلسطینیوں کو غیر قانونی طور پر اور من مانے حربے سے جیلوں میں قید رکھنے کی ایک منظم پریکٹس موجود ہے۔
جنیوا میں موجود اسرائیلی سفارتی مشن نے یو این کی جاری کردہ اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اہم بات ہے کہ اسرائیلی سفارتی مشن نے پچھلے سال بھی اقوام متحدہ کی اسی طرح کی ایک رپورٹ پر ردعمل دینے سے گریز کیا تھا۔ پچھلے سال ماہ جولائی میں بھی اسرائیلی سفارتی مشن سے اس بارے میں رد عمل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
'ایم ای این اے رائٹس گروپ' نے اس سلسلے میں ایک شکایت درج کرائی تھی کہ 52 سالہ فلسطینی چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر اور کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر کو اسرائیل نے دسمبر 2024 سے قید کر رکھا ہے۔ جیل میں اس فلسطینی ڈاکٹر کو نہ صرف قید تنہائی میں رکھا گیا ہے بلکہ انہیں بار بار لمبی انویسٹی گیشن کے نام پر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس دوران انہیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔
پیر ہی کے روز ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل ناصر عودہ نے کہا ان کے موکل کی صحت اور زندگی سخت خطرے میں ہے۔ انہیں اس حال میں پہنچانے کے لیے اسرائیلی جیل اہلکار ہر روز تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بارے میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں بھی انہیں انتہائی لاغر دیکھا گیا ہے۔ یہ ویڈیو اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے موقع پر بنائی گئی تھی۔
فلسطینیوں کی طبی امداد کے لیے کام کرنے والے ادارے 'چیریٹی میڈیکل ایڈ' کے سربراہ سٹیو کٹس نے ڈاکٹر ابو صفیہ کی انتہائی خراب حالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اگر ڈاکٹر ابو صفیہ کی جیل میں موت واقع ہوگئی یا انہیں قتل کر دیا گیا تو اس کا ذمہ دار ہر وہ شخص بھی ہوگا جو انہیں اس ظلم سے بچانے کا اختیار رکھتا تھا مگراس نے انہیں بچانے کے لیے کچھ نہ کیا۔'
ادھر تل ابیب میں اسرائیل جیل سروس نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک جوابی بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ یا کسی بھی اور فلسطینی ڈاکٹر کو جیل میں برے سلوک کا نشانہ بنانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ پچھلے ماہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ابو صفیہ کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
اسرائیلی فوج کا ڈاکٹر ابو صفیہ پر الزام ہے کہ ڈاکٹر عسکری گروپ حماس کا حصہ ہے۔ غزہ کی وزارت صحت اور حماس دونوں نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
خیال رہے ابوصفیہ ان 14 فلسطینی ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہیں جیل میں بغیر کسی مقدمے کے اسرائیل نے لمبے عرصے سے قید کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ میں ڈاکٹر ابو صفیہ کے کیس کو پیش کرنے والے گروپ 'ایم ای این اے رائٹس گروپ' کی ریسرچ ہیڈ تانیا بولاکووسکی نے کہا 'فلسطینی ڈاکٹروں کی بغیر مقدموں کے لمبی گرفتاری اس امر کا اظہار ہے کہ اسرائیل فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کو علاج کی سہولت سے کس کس طرح محروم رکھنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے فلسطینی ہیلتھ ورکرز کو کیسے نشانہ بناتا ہے۔ '
ڈاکٹر ابو صفیہ نے 2023 میں اسرائیلی فوج کے حکم پر فلسطینی نومولود بچوں کے علاج کو درمیان میں نہیں چھوڑا تھا۔ جبکہ اسرائیلی فوج چاہتی تھی کہ ان بچوں کو علاج کی سہولت نہ دی جائے کہ یہ فلسطینیوں کے بچے ہیں۔ جن کے خلاف اسرائیلی جنگ چل رہی ہے۔