ایران برسوں سے مجھے قتل کرنے کے درپے ہے: ٹرمپ
ایران کی جانب سے میرے قتل کا کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ انہوں نے اپنے قتل کی کسی بھی ایرانی سازش کی کامیابی کی صورت میں نمٹنے کے لیے مخصوص ہدایات جاری کر دی ہیں اور تاکید کی کہ اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں کافی عرصے سے ان کی فہرست میں شامل ہوں یہ وہ صورتحال ہے جس سے ہم نمٹ رہے ہیں اور واحد بات یہ ہے کہ میں نے ہدایات دے دی ہیں کہ اگر کچھ بھی ہوا تو انہیں لفظی طور پر ایسی سطح پر بمباری کا نشانہ بنایا جائے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل نے اس ہفتے صدر کے قتل کی سازش کے بارے میں کوئی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں ٹرمپ نے ایران کے کسی نئے منصوبے کے وجود سے انکار کیا تاہم یہ تسلیم کیا کہ تہران برسوں سے انہیں قتل کرنے کے درپے ہے۔
انہوں نے جواب دیا کہ نہیں نہیں، اسرائیل کوئی نئی بات نہیں لایا ہے۔ نہیں نہیں میں کافی عرصے سے [ایران کی ہٹ لسٹ پر] پہلا ہدف رہا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ زندگی کی یہی فطرت ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ذرائع نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے مبینہ ایرانی منصوبے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل نے قیاس آرائی کی کہ یہ معلومات واشنگٹن کے موقف کو مزید سخت کرنے اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں کشیدگی بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
اخبار نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اب بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ ٹرمپ حال ہی تک کشیدگی کے معاشی اثرات کے خوف سے سفارتی تصفیے کو ترجیح دے رہے تھے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 8 جولائی کی رات ایران پر حملے دوبارہ شروع کر دیے تھے جس میں تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔