ایران پر نئے امریکی حملے، بندر عباس و قشم دھماکوں سے گونج اٹھے

امریکہ نے دو مقامات پر ایرانی پاسداران انقلاب کی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسیوس ‘‘ نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی میزائل اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کے بعد اتوار کو جنوبی ایران کے کئی علاقے دھماکوں سے گونج اٹھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے گرد دو مقامات پر ایرانی پاسداران انقلاب کی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، بندر عباس شہر کے مشرق اور تزویراتی آبنائے ہرمز میں واقع قشم کے ساحلی علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی جزیرے قشم پر دس سے زائد گولے گرے۔ قشم کے گورنر حسین امیر تیموری نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی (ارنا) کو بتایا کہ اتوار کی دوپہر سے جزیرہ قشم میں دس سے گیارہ کے درمیان دشمن کے گولے گرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اہداف فوجی تھے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

جنوبی ایران میں واقع صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملوں میں ایک ٹیلی کام کمپنی کا ملازم جاں بحق ہو گیا ۔ "ارنا" نے رپورٹ کیا کہ بندر لنگہ میں فارور پر حملے کے بعد ایرانی موبائل فون کمپنی کا ایک ملازم اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہوا۔ اس کے دو ساتھی زخمی ہو گئے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی اور ایرانی افواج نے اتوار کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شدید حملوں کا تبادلہ کیا۔ ایران نے کئی خلیجی ملکوں میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تہران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کردیا۔

300 سے زیادہ اہداف

امریکی فوج نے اتوار کو ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے فوجی حملوں کے تیسرے دور کے خاتمے کا اعلان کیا اور انکشاف کیا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دنوں کے دوران ایران کے اندر اہداف کے خلاف وسیع ترین فضائی اور بحری کارروائیوں میں سے ایک انجام دی ہے جس میں 300 سے زیادہ فوجی ٹھکانے شامل تھے۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ زمینی اور بحری اڈوں سے اڑنے والے جنگی طیاروں، ڈرونز اور درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے لیس جنگی جہازوں کے ذریعے تقریبا 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد حملوں کا تیسرا دور ختم ہو گیا۔

سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا کہ ان اہداف میں میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے مقامات، بحری تنصیبات، اسلحہ کے ڈپو، فوجی گودام، مواصلاتی نیٹ ورک اور ایرانی ساحلوں پر نگرانی اور رصد کے مقامات شامل تھے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع ٹھکانوں پر امریکی حملوں کے دوران ایرانی بحریہ کا ایک اہلکار جاں بحق ہو گیا۔ یہ حملوں اور جوابی حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملے تھے جس کا مقصد ایران کی جانب سے آبنائے کے ذریعے جہاز رانی پر اپنا کنٹرول نافذ کرنا ہے۔ یہ حملے قطر تک پھیل گئے جو جنگ بندی کے مذاکرات میں ایک ثالث ہے اور اپریل کے بعد سے اس پر کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔

امارات نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے مئی کے اوائل کے بعد پہلی بار ایران سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا۔ کشیدگی کی یہ نئی لہر پچھلے مہینے دونوں ملکوں کے مابین دستخط کیے گئے عارضی امریکی ایرانی معاہدے کے مستقبل پر شکوک و شبہات کے بادل پیدا کر رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور مزید 60 دنوں کے مذاکرات کے بعد جنگ کو ختم کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں