ایران بین الاقوامی قانون اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے
سعودی کابینہ نے عراق کی جانب سے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو مملکت کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کے لیے نقطہ آغاز کے طور پر استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کے عزم کا خیرمقدم کیا
سعودی کابینہ نے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر صدارت علاقائی اور بین الاقوامی واقعات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر بار بار ایرانی جارحیت... اور کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سلطنت عُمان اور اردن پر حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی خطے کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے والے ایران کے رویے، بین الاقوامی قانون کے اصولوں، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے منشور اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
آج منگل کے روز اجلاس کے آغاز میں سعودی ولی عہد نے کابینہ کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے موصول ہونے والی ٹیلی فون کال کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس دوران دو طرفہ تعاون کے شعبوں، متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے حصول میں معاون ہر اقدام کی حمایت پر زور دیا گیا۔
جدہ میں منعقدہ اجلاس میں کابینہ نے ریاض میں سعودی اور عراقی فریقین کے درمیان ہونے والے اجلاس کے مندرجات کا خیر مقدم کیا۔ عراق کی جانب سے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو مملکت، خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے والے کسی بھی عمل یا حملے کے لیے نقطہ آغاز کے طور پر استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کے عزم کا خیرمقدم کیا۔ علاوہ ازیں مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے دو طرفہ رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسی دوران کابینہ نے امریکہ کے جانب سے 1979 میں شامل کیے گئے قانون "شامی عرب جمہوریہ کو دہشت گردی کی ریاستی سرپرست ملک قرار دینے" کو ختم کرنے کے طریقہ کار شروع کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب کی طرف سے شامی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے، ریاستی اداروں کی تعمیر اور اپنے عوام کی امنگوں کی تکمیل کی راہ میں اٹھائے جانے والے مثبت اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
فيديو | انعقاد مجلس الوزراء برئاسة ولي العهد الأمير محمد بن سلمان pic.twitter.com/aJ9eiCqWCt
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 14, 2026
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ اپنی بات چیت کے نتائج سے آگاہ کیا۔ اس میں مختلف سطحوں پر دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور اسے ترقی دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، تاکہ مشترکہ تعاون کے ایک ایسے مستقبل تک پہنچا جا سکے جو باہمی اعتماد، گہری دوستی اور سعودی وژن 2030 اور کینیڈا کے ترقیاتی ایجنڈے سے نکلنے والے اہداف کے ذریعے تقویت یافتہ ہو، تاکہ دونوں ممالک کے لیے ایک مضبوط اور زیادہ لچک دار معیشت کی تعمیر کی جا سکے۔
اسی تناظر میں سعودی کابینہ نے کینیڈا کے وزیر اعظم کے سرکاری دورے کے دوران سعودی کینیڈین رابطہ کونسل کے قیام، توانائی، مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط کی تعریف کی۔ سعودی کینیڈین سرمایہ کاری فورم کی کامیابی اور کان کنی، انجینئرنگ، بنیادی ڈھانچہ، جدید صنعتوں، تربیت، تعلیم، مالیاتی خدمات اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے سرکاری اداروں، کمپنیوں اور اداروں کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کے اعلان پر بھی تعریف کی۔
سعودی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر صدارت ریاستی محصولات کے نظام کی منظوری دی اور بین الاقوامی تربیت حاصل کرنے والوں کو دیے جانے والے تربیتی ویزا کے اجرا کی بھی کئی ترتیبات کے مطابق منظوری دی۔
-
واشنگٹن کا ریاض کو پیغام، حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کی مکمل حمایت
امریکی وزارتِ خارجہ نے ''العربيہ انگلش'' کو خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکا ...
مشرق وسطی -
خلیج تعاون کونسل کی حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت، جنوبی سعودی عرب پر حملہ بزدلانہ قرار
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے سعودی عرب کے جنوبی ...
مشرق وسطی -
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملے کی مذمت، علاقائی کشیدگی میں کمی پر زور
پاکستان نے یمن کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ سعودی مملکت کی سلامتی کی حمایت کا اعادہ ...
مشرق وسطی