مکہ میوزیم میں قرآنِ کریم کی ابتدائی کتابت کے نادر شواہد

چمڑے، ہڈیوں اور کھجور کی ٹہنیوں پر لکھی آیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کاغذ کی ایجاد اور قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیے جانے سے پہلے، کاتبانِ وحی قرآن کی آیات کو چمڑے، کھجور کی شاخوں، پتھروں اور جانوروں کی ہڈیوں پر تحریر کیا کرتے تھے۔

یہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرحلہ تھا، جس کے ذریعے نزولِ وحی کے آغاز ہی سے قرآنِ کریم کی آیات محفوظ کی جاتی رہیں۔

مکہ مکرمہ کے ثقافتی علاقے ''حیِ حراء'' میں قائم قرآنِ کریم میوزیم اسی تاریخی دور کی جھلک پیش کرتا ہے۔ یہاں ایسے نوادرات اور نمونے رکھے گئے ہیں جو ان ذرائع کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر کاتبانِ وحی قرآنِ کریم لکھا کرتے تھے۔

یہ نمائش مستند تاریخی روایات کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے، تاکہ زائرین قرآنِ مجید کی ابتدائی کتابت کا ایک جیتا جاگتا اور بصری تصور حاصل کر سکیں۔

دباغت شدہ چمڑے سے لے کر جانوروں کی ہڈیوں تک

مکہ میں قائم قرآنِ کریم میوزیم میں ایسے نمونے رکھے گئے ہیں جو ان مختلف اشیاء کی نمائندگی کرتے ہیں جن پر نزولِ وحی کے دوران قرآنِ کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں۔

ان میں ادیم (دباغت شدہ چمڑا)، کھجور کی شاخیں، لکڑی کے ٹکڑے، پتھر، اور جانوروں کی ہڈیاں، خصوصاً کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں شامل ہیں، جو قرآنِ کریم کو ایک مصحف کی صورت میں جمع کیے جانے سے پہلے کتابت کے اہم ذرائع تھے۔

ان میں دباغت شدہ چمڑاسب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ تھا، کیونکہ یہ مضبوط، پائیدار اور تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا تھا۔

یہ جانوروں کی کھال کو دباغت کے عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا تھا، جس کے بعد اس پر لکھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبوی میں قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اسی پر محفوظ کی گئیں۔

وحی کی ابتدا ہی سے قرآن کی تحریری حفاظت کا اہتمام

میوزیم میں موجود نوادرات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کے نزول کے آغاز ہی سے اس کی حفاظت اور تحریری تدوین کا غیر معمولی اہتمام کیا جاتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تو کاتبانِ وحی کو فوراً اسے لکھنے کی ہدایت فرماتے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے کہ اسے متعلقہ سورت میں کس مقام پر درج کرنا ہے، تاکہ قرآنِ کریم کی آیات پوری درستگی کے ساتھ محفوظ رہیں۔

میوزیم میں رکھی گئی اشیاء کے ساتھ معلوماتی وضاحتیں بھی موجود ہیں، جن میں ہر ذریعے کی خصوصیات، اس کے استعمال کی وجوہات اور اس پر لکھنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔

اس سے زائرین کو اس تاریخی ماحول اور ابتدائی مسلمانوں کے ان ذرائع کا جامع تصور ملتا ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو محفوظ کیا گیا۔

قرآنِ کریم کی تاریخ کو بیان کرنے والا علمی سفر

قرآنِ کریم میوزیم اپنے زائرین کو ایک ایسے علمی و تاریخی سفر پر لے جاتا ہے جہاں قرآنِ کریم کی تاریخ، علومِ قرآن، اس کی کتابت، جمع و تدوین کے مراحل اور مختلف ادوار میں مصحفِ شریف کی ارتقائی تاریخ کو جدید طرز کی نمائش گاہوں اور انٹرایکٹو ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔

اس انداز میں علمی معلومات کو بصری تجربے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے تاکہ زائرین اس عظیم تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

یہ میوزیم حیِ حراء ثقافتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مکہ مکرمہ سے وابستہ اسلامی ورثے کو اجاگر کرنا اور زائرین کو ان تاریخی مراحل سے روشناس کرانا ہے، جو نزولِ وحی کے ساتھ وابستہ رہے، تاکہ وہ اسلام کی ابتدائی تاریخ اور قرآنِ کریم کی حفاظت و تدوین کے سفر کو قریب سے جان سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں