سینٹکام نے آبنائے ہرمز پر قبضے سے متعلق ایرانی دعوے مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے پاسدارانِ انقلاب ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

سینٹکام نے واضح کیا کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ بدستور جہاز رانی کے لیے کھلی ہے اور تجارتی جہاز امریکی افواج کی معاونت سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا یہ دعویٰ کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو کنٹرول کرتی ہے اور بین الاقوامی جہاز صرف ایران کی مقرر کردہ گزرگاہوں سے ہی سفر کر سکتے ہیں، ''جھوٹا دعویٰ'' ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں اور یہ اہم بین الاقوامی آبی راستہ پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ دھمکیوں اور حملوں کے باوجود عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھلا ہوا ہے۔

900 جہازوں کی معاونت

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا کہ تجارتی جہاز معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور خطے میں تعینات امریکی افواج کی معاونت سے اپنی آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق امریکی افواج نے گزشتہ مئی کے آغاز سے اب تک 900 سے زائد تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) گزرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے میں جہاز رانی کو لاحق کسی بھی خطرے پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں کئی واقعات پیش آئے، جن میں تیل بردار جہازوں کو روکنا اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے شامل ہیں۔

ان واقعات کی ذمہ داری کے حوالے سے ایران، امریکہ اور مغربی ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں اس کی فوجی موجودگی کا مقصد آزادیٔ جہاز رانی کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کا تحفظ ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ خلیجی پانیوں میں امن و امان برقرار رکھنا اس کی بحری افواج کی ذمہ داری ہے اور امریکی فوجی موجودگی ہی خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس بیان پر جو پاسدارانِ انقلاب کے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کنٹرول کے دعوے کے جواب میں جاری کیا گیا، ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں