ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے 9 جہازوں کا رخ موڑ دیا: امریکی فوج
ایک بحری جہاز کو روکا بھی گیا، امریکی اہلکار نگرانی کر رہے: سینٹ کام کی "ایکس" پر پوسٹ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحری افواج ایران پر عائد بحری ناکہ بندی سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ منظور شدہ طریقہ کار کی مکمل پابندی کو یقینی بنانے کے مقصد سے 22 جولائی تک 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا اور ایک بحری جہاز کو روکا گیا ہے۔
"سینٹ کام" نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ گائیڈڈ میزائل سے لیس بحری جہاز یو ایس ایس مائیکل مرفی پر سوار امریکی بحریہ کے اہلکار عرب سمندر میں جہاز کے سفر کے دوران کمبیٹ انفارمیشن سینٹر سے کارروائیوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
U.S. Sailors aboard guided-missile destroyer USS Michael Murphy (DDG 112) monitor operations in the ship's Combat Information Center while transiting the Arabian Sea, as American forces enforce the naval blockade against Iran. To ensure full blockade compliance, CENTCOM has… pic.twitter.com/zttL7x8T3u
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 22, 2026
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو یہ دھمکی دینے کے بعد سامنے آئی ہے کہ جب بھی وہ ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی جہاز کو نشانہ بنائے گا۔ اس کی شہری تنصیبات پر بمباری کی جائے گی۔ یہ توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم آبنائے کے کنٹرول سے متعلق کشمکش میں ایک نیا اضافہ ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لکھا کہ کسی بھی وقت جب ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر فائرنگ کرے گا، چاہے وہ میزائل سے ہو، راکٹ سے ہو، ڈرون سے ہو یا کسی اور ذریعہ یا ہتھیار سے ہو تو امریکہ ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری کر کے تباہ کر دے گا۔
یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے پیوستہ گیارہویں رات کو حملے کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ ان حملوں میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو دھمکانے کی ایرانی صلاحیت کو مفلوج کرنے کے مقصد سے ایرانی ملٹری آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون اسٹوریج کی سہولیات اور فوجی لاجسٹک خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی افواج جاری کارروائیوں کے ضمن میں بحری نگرانی کے اقدامات لاگو کر رہی ہیں انہوں نے بحری جہازوں کی شناخت یا ان کے خلاف کیے گئے اقدامات کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ خیال رہے آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ایک بنیادی کارڈ بن چکا ہے کیونکہ 28 فروری کو اپنے اوپر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران نے اس آبنائے کو بند کر دیا تھا اور وہ اب بھی اس میں جہاز رانی کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے پر بضد ہے۔ واشنگٹن اور خطے کے ممالک ایران کے اس موقف کو رد کر رہے ہیں۔
اس آبنائے سے متعلق اختلاف کی وجہ سے ہی جولائی کی سات تاریخ کو جنگی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز ہوگیا تھا۔ جون کے وسط میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے کے چند ہفتوں بعد کارروائیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ مشرق وسطیٰ نے 17 جون کو پاکستان کی قیادت میں ہونے والی ثالثی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد سکون کا ایک مختصر دور دیکھا۔ اس یادداشت نے 60 دن کی مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی تھی لیکن یہ یادداشت جولائی کی سات تاریخ سے ناکام ہو چکی ہے۔ دونوں فریق فی الحال عسکری تصادم پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور بغیر کسی سنجیدہ اقدام کے دونوں نے سفارت کاری کے لیے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہوئی ہے۔