سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس ہفتے کے روز شام پہنچے۔ ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے عالمی ادارے کے سربراہ کا یہ اولین دورہ ہے۔
سہ روزہ دورے کے دوران گوتیریس شام میں اقتدار کی منتقلی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کریں گے۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ قبل صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئے حکام نے 13 سال سے زیادہ کی خانہ جنگی کے بعد دیرینہ حکمران بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے دمشق کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر گوتیریس اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا استقبال کیا۔
وہ 2009 میں بان کی مون کے بعد شام کا دورہ کرنے والے اقوامِ متحدہ کے اولین سربراہ ہیں۔ اس کے دو سال بعد شام میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی معزولی سے قبل نصف ملین سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بین الاقوامی برادری نے نئے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مضبوط اور مؤثر اداروں کی تعمیر اور ایک ایسا نظم و نسق قائم کریں جس میں شام کے کثیر النسلی، کثیر الاعتقادی معاشرے کے تمام اجزاء شامل ہوں۔
گوتیریس اس بات پر زور دیں گے کہ یہ موقع نہ صرف تنازعات سے نکلنے بلکہ شام کے لیے ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھنے کا بھی ہے جو تمام شامیوں کے لیے زیادہ مستحکم، زیادہ جامع اور زیادہ خوشحال ہو، ان کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے دورے سے قبل کہا۔
دوجارک نے مزید کہا، وہ "اس بات کی بھی تصدیق کریں گے کہ اس سفر میں اقوامِ متحدہ کا کردار شامی عوام کی ہمراہی اور حمایت کرنے کا ہے۔"
'فیصلہ کُن موڑ'
ملک کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کلاڈیو کورڈون نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ گوتیریس "شام کی تاریخ کے اس فیصلہ کُن دور میں شامی حکومت اور شامی عوام کی حمایت کے لیے اقوامِ متحدہ کے عزم کی توثیق کریں گے۔"
گوتیریس شامی صدر الشرع سے ملاقات کریں گے جنہوں نے گذشتہ سال اقوامِ متحدہ کا تاریخی دورہ کیا تھا جہاں وہ کئی عشروں میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے اولین شامی صدر تھے۔
سربراہ اقوامِ متحدہ شام کی سول سوسائٹی اور خواتین کے مسائل کی حمایت کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندگان سے بھی ملاقات کریں گے اور نئی عبوری پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے جس کا اس ماہ کے اوائل میں پہلا اجلاس ہوا تھا۔
وہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا بھی دورہ کریں گے جو 1974 سے جنوبی شام کی اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں تعینات ہے۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے گشت والے بفر زون میں فوج بھیج دی اور شام کی سرزمین میں دور تک حملے اور بار بار دراندازی کی۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ جنوبی شام میں فوج کو ایک "سکیورٹی زون" میں رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں وہ ایک وسیع تر غیر فوجی زون کی تلاش میں ہیں۔
کشیدگی کے باوجود اسرائیل اور شام کے نئے حکام نے براہِ راست مذاکرات کے کئی ادوار منعقد کیے ہیں اور معلومات کے اشتراک کا طریقہ وضع کرنے پر اتفاق کیا ہے اگرچہ یہ اقدام اسرائیلی فوجی کارروائیاں روکنے میں ناکام رہا ہے جن کی اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ارکان نے مذمت کی ہے۔
الاسد کے زوال کے بعد اقوامِ متحدہ کے کئی سینئر حکام شام کا دورہ کر چکے ہیں جن میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک اور اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی شامل ہیں جبکہ سلامتی کونسل کے سفارت کاروں کے ایک وفد نے گذشتہ سال کے آخر میں شام کا پہلا دورہ کیا تھا۔