جنگ کا دائرہ وسیع ہونے لگا، ٹرمپ کا ایران پر حملوں میں شدت لانے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران پر مزید وسیع حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ خطے میں جاری تنازع کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق جمعہ کو ٹرمپ نے صبح کے وقت اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ایک اجلاس کیا، جس میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے پر بات چیت کی گئی۔

تاہم وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کے بارے میں کہا: ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ دن بہ دن زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور شاید اس کی وجہ واضح ہے۔

ان کا اشارہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے روزانہ حملوں کی طرف تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں: یا تو ایک معاہدہ طے کرے، یا پھر اسے اس سے کہیں زیادہ شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا: ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور کارروائی کے لیے آمادہ ہیں، لیکن ہم ان سے بات چیت بھی کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ مذاکرات کیا نتیجہ دیتے ہیں۔

اس سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں موجود ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ،جنہیں امریکہ استعمال کرتا ہے۔

تاہم گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار امریکی فوج نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایران پر کسی حملے کا اعلان نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے، جو امریکہ کے ساتھ شریک ہو، تعاون کرے یا اس کی حمایت کرے۔

7 جولائی کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر جھڑپیں آبنائے ہرمز کے گرد مرکوز رہی ہیں، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں یہ تنازع جزیرہ نما عرب کے دوسرے حصے تک پھیل گیا ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی عرب سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے خلاف پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔اس کے جواب میں سعودی عرب نے جمعہ کو صوبہ حدیدہ میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود اہداف پر حملے کیے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرے سے تھا۔

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو خبردار کیا کہ وہ ایران کو اسلحہ فروخت نہ کریں۔ اسی دوران امریکہ اس امکان کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ماسکو اور بیجنگ نے تہران کو ایسی معلومات فراہم کیں جن کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے۔

دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جمعہ کو کرغزستان میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق وانگ یی نے ملاقات کے بعد کہا کہ "جب مذاکرات کا دروازہ ایک بار کھل جائے تو اسے بند نہیں کرنا چاہیے اور جب تک امن کی امید موجود ہو، بات چیت ترک نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ، تہران کا ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہونے کے ناطے، ایران کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size