مذاکرات کریں یا حملے جاری رہیں گے: ٹرمپ کا ایران کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایران پر مزید وسیع پیمانے پر حملوں پر غور کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں تنازع کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

جمعہ کی شام وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں شرکت کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی حکام واشنگٹن سے رابطے میں ہیں، تاہم انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں۔

ایران کی فوجی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ایران کے پاس اب زیادہ ڈرونز باقی نہیں بچے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس سے اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران پر حملوں کو مزید تیز کرنے کے امکان کی جانب اشارہ کیا، کیونکہ ان کے بقول ایرانی کسی بھی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اب صرف دو راستے ہیں: یا تو کسی معاہدے پر پہنچے، یا پھر کہیں زیادہ شدیدحملوں کا سامنا کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت کسی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم واشنگٹن کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، جن میں فوجی حملوں میں مزید شدت لانا اور ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی انتظامیہ اس وقت ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔ٹرمپ کے مطابق ایران کا مؤقف ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے، جبکہ امریکی فوج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران ٹرمپ نے ایران میں اہداف کی فہرست کو مزید وسعت دینے کی دھمکی دی۔ ان کے بقول ممکنہ اہداف میں توانائی کی تنصیبات، پل، ایران کی تیل برآمد کرنے والی اہم خارک جزیرہ پر زمینی فوج بھیجنا، اور جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین مقام ''پک ایکس ماؤنٹین'' پر حملہ بھی شامل ہے۔

تاہم انہوں نے جمعہ کو واضح کیا کہ ابھی تک نئی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کی حکمتِ عملی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا:ایک فوجی راستہ یہ ہے کہ موجودہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں، بلکہ حملوں کی شدت مزید بڑھا دی جائے، جس سے ان کے پاس موجود ہر چیز ختم ہو سکتی ہے۔ دوسرا اور زیادہ دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ ایک معاہدے تک پہنچا جائے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی وقت کارروائی کے لیے آمادہ ہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ چند روز میں امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں منگل کو ان کی ملاقات متوقع ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوگی ،جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

آبنائے ہرمز اس تنازع کا سب سے حساس محاذ بن چکی ہے۔ تقریباً پانچ ماہ سے جاری جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی مہنگائی میں اضافہ اور معاشی کساد بازاری کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج نے جمعرات کی شب اور جمعہ کی صبح مسلسل تیرہویں رات ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے ان عرب ممالک کی جانب میزائل داغے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size