قطر اور پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی تجاویز پر امریکہ اور ایران نے رد عمل جاری کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر اپنے جوابی ردعمل جمع کرا دیے ہیں۔

یہ قدم کشیدگی میں کمی کی کوششوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان متنازع امور بالخصوص جوہری فائل، پابندیوں اور علاقائی سکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے ایک گفت و شنید کا فارمولا تلاش کرنے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

ادھر ایران میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مسلسل دوسری رات بھی سکون رہا اور کوئی امریکی حملے نہیں ہوئے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا کہ امریکیوں نے پچھلی دو راتوں میں اپنے حملے روک دیے ہیں اور چونکہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی ہے اس لیے ہم نے بھی اپنی عسکری کارروائیوں کو روک دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کے لیے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی۔

ثالثی کی کوششوں سے باخبر دو ذرائع نے بتایا کہ قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکہ اور ایران کو دس روزہ جنگ بندی کی ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔

جبکہ اس نئی امن تجویز میں واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کے راستے پر لانے اور ان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کو بچانے کے لیے دو بنیادی شرائط شامل ہیں جن میں دشمنانہ کارروائیوں کا خاتمہ اور عالمی بحری نقل و حرکت کے لیے آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا شامل ہے۔

اس تجویز میں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے دونوں راستوں کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی بھی بات کی گئی ہے تاکہ عماں کے پانیوں سے گزرنے والا جنوبی راستہ ایرانی حملوں سے خالی ہو جبکہ ایرانی پانیوں سے گزرنے والا شمالی راستہ امریکی سمندری محاصرے سے آزاد ہو۔

دس دن کی جنگ بندی کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت سے متعلق بحران کے حل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے موقع فراہم کرنا ہے جو کہ دونوں فریقوں کے درمیان گذشتہ ماہ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ بناتھا کیونکہ دونوں فریقوں نے عملی طور پر اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب مؤثر نہیں رہی۔

اسی سیاق و سباق میں باخبر ذرائع نے اشارہ کیا کہ ثالث اس تجویز پر عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر 11 جولائی سنہ 2026ء کو سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں عمان، ایران اور قطر کے درمیان تبادلہ خیال کیا گیا تھا جب امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے عزم کا اعلانیہ اظہار کرے۔

اکسیوس کے مطابق امریکہ اور ایران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے طویل المدتی انتظامات پر مذاکرات کریں گے۔

ایک باخبر ذریعے کے مطابق زیر غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو سمندری سکیورٹی کی خدمات کے بدلے میں معقول سروس فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ ذریعے نے اشارہ کیا کہ آبنائے ملاکا اس تجویز کے لیے ایک نمونہ ہے جہاں ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور جامع عبور فیس کے بجائے مخصوص خدمات کے بدلے جہازوں سے فیس وصول کرتے ہیں۔

دوسری طرف ایک اور خیال یہ ہے کہ ان فیسوں کو ایک مشترکہ فنڈ میں جمع کیا جائے جو بین الاقوامی بحری تنظیم کی شراکت سے چلایا جائے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں موجودہ کشیدگی کا آغاز 8 جولائی سنہ 2026ء کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد پہلی بار ہوا۔

امریکہ اور ایران کی کشیدگی

امریکہ فوج نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کے جواب میں ایران کی سرزمین پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بدلے میں تہران نے بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور عمان میں امریکی تنصیبات پر حملہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں