آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کے روز تہران میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر کئی دور مذاکرات ہوئے۔

بقائی نے اتوار کو بتایا کہ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری نقل و حرکت کے انتظام کے لیے مشترکہ اصولوں اور عملی طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ دونوں ساحلی ممالک کی خودمختاری کے حقوق کو مدنظر رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ''مفید'' رہے اور ان میں ''پیش رفت'' ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عمانی وفد ہفتہ کی شام تہران سے روانہ ہو گیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور سیاسی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

زیادہ سنجیدگی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز فوج کو ایران کے خلاف مزید حملے نہ کرنے کی ہدایت دی۔

ویب سائٹ Axiosنے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں کا سلسلہ رک گیا۔

اس ہدایت کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں کیا، کیونکہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ''زیادہ سنجیدگی'' دکھا رہا ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا:"نہیں، میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ دن بہ دن زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور شاید اس کی وجہ واضح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے پاس دو راستے ہیں:یا تو معاہدہ کرے، یا پھر کہیں زیادہ شدیدحملوں کا سامنا کرے۔

ہم مکمل طور پر تیار ہیں

ٹرمپ نے کہا:ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں، لیکن ہم ان سے بات کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ مذاکرات کہاں تک پہنچتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ سنجیدہ ہیں، اور انہیں ایسا ہونا بھی چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کی ''سرخ لکیر'' ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچنا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ نقطہ جس پر وہ حتمی فیصلہ کریں گے، ابھی طے نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والا عارضی معاہدہ 7 جولائی کو اس وقت ختم ہو گیا تھا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے۔

اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ پابندیاں اور ناکہ بندی سخت کر دی۔ ایران نے خلیجی ممالک اور اردن کو بھی نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں