مغربی کنارے میں ہفتے کے روز فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان ایک بار پھر شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
یہ واقعات ایک روز قبل قصبہ تلّ میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد پیش آئے، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیل کے 1967 سے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بھی بڑھتے بڑھتے تقریباً روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ہفتے کے روز جنوبی مغربی کنارے میں ایک پہاڑی پر قائم سوسیا نامی اسرائیلی بستی میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔
فوج کے بیان کے مطابق بعد میں ایک فلسطینی نوجوان نے ایک اسرائیلی شہری سے اسلحہ چھین لیا، جس کے بعد فضا میں فائرنگ کی گئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ اہلکار مبینہ حملہ آور کی تلاش میں ہیں اور علاقے میں متعدد چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے ایک روز قبل شمالی مغربی کنارے کے گاؤں تلّ میں بھی فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان اسی نوعیت کی جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں دو اسرائیلی اور چار فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔
ہفتے کے روز چاروں فلسطینیوں کی نمازِ جنازہ ادا کر کے انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
مشرقی القدس کو چھوڑ کر مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جبکہ 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار ایسی بستیوں میں رہتے ہیں، جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجیوں یا آبادکاروں کی فائرنگ سے کم از کم 1097 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔