فلسطینی کیمپوں میں اسلحے کی حوالگی کا معاملہ ... پی ایل او کے سکریٹری جنرل لبنان میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آج پیر کے روز رام اللہ سے تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری عزام الاحمد بیروت پہنچے۔ فلسطینی کیمپوں کے اندر اسلحے کی تنظیم نو اور اس کی حوالگی کے لیے ایک منصوبہ اور ان کیمپوں کے مستقبل سے متعلق ایک نئی سوچ لے کر آئے ہیں۔

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آج شام بیروت آمد متوقع ہے، جب کہ امریکی خاتون مندوب مورگن کی عید الاضحیٰ کے بعد متوقع آمد کو غالباً ان کا آخری دورہ تصور کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں وہ لبنان کا سفارتی معاملہ کسی نئی امریکی شخصیت کے سپرد کریں گی۔

اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہو

گزشتہ ہفتے لبنانی صدر جوزف عون نے اعلان کیا تھا کہ "لبنانی-فلسطینی مشترکہ کمیٹیاں" تشکیل دی گئی ہیں، جو رواں ماہ کے وسط سے تین فلسطینی کیمپوں میں اسلحے کے مسئلے کے حل پر کام شروع کریں گی۔

یہ اقدام اس ملاقات کے بعد سامنے آیا جس میں فلسطینی صدر محمود عباس نے لبنانی صدر سے ملاقات کی اور فلسطینی کیمپوں کے حالات کی نگرانی اور اسلحے کو صرف ریاستی اداروں کے سپرد کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا۔

لبنان میں 12 فلسطینی کیمپ موجود ہیں جو مختلف صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے علاوہ 57 غیر رسمی آبادیاتی مقامات بھی ہیں، جن میں 2 لاکھ 35 ہزار سے زائد رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزین مقیم ہیں۔

ان کیمپوں میں اسلحے کی موجودگی مختلف درجے کی ہے، البتہ شمالی لبنان میں واقع نہر البارد کیمپ اسلحے سے مکمل طور پر خالی ہے، اور 2007 سے لبنانی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ یاد رہے کہ 2007 میں یہاں شدید جھڑپیں ہوئیں تھیں جو تین ماہ تک جاری رہیں، جن میں فوج اور "فتح الاسلام" نامی تنظیم کے درمیان خون ریز معرکے ہوئے تھے۔ اس تنظیم نے ریاست اور فوج پر حملے کیے، جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔

قبل ازیں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دی گئی معلومات میں یہ وضاحت کی گئی تھی کہ کیمپوں میں موجود اسلحہ ہلکا اور درمیانے درجے کا ہے، جب کہ بھاری اسلحہ زیادہ تر جنوبی لبنان کے دو کیمپوں 'عین الحلوہ' اور 'الرشیدیہ' میں موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں