.

عیدالاضحیٰ 4 گھنٹے کے لیے موبائل فون سروس بند کرنے کا اعلان

13 حساس مقامات پر دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کی وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہفتے کے روز نماز کے اوقات کے دوران تیرہ حساس شہروں ومقامات میں موبائل فون سروس چار گھنٹے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ موبائل فون سروس ہفتے کی صبح دس بجے سے گیارہ بجے تک بند کی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملک کے تیرہ حساس مقامات پر دہشت گردی کے حملوں کی انٹیلی جنس اطلاعات ملی ہیں۔ اس کے پیش نظر ان علاقوں میں چار گھنٹے کے لیے موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ملک کے باقی حصوں میں موبائل سروس معطل نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس معطل رہے گی، صوبہ پنجاب کے تین اور سندھ کے دو شہروں میں موبائل سروس بند کی جائے گی جبکہ بلوچستان کے چھوٹے بڑے بیس شہروں میں بھی دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر مذکورہ اوقات میں موبائل فون بند رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ صوبوں کی سفارشات پر موبائل سروس معطل کی جا رہی ہے کیونکہ صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں عید کی نماز کے موقع پر دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ ہے۔تاہم انھوں نے سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر ان حساس شہروں کے نام نہیں بتائے ،جہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک کے سب بڑے شہر کراچی میں ایک کالعدم تنظیم کے کارکنوں کو قتل کرکے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نماز عید کے بعد موبائل فون سروس کو بحال کر دیا جائے گا۔ انھوں نے فون سروس کی بندش سے ہونے والی تکلیف پر پیشگی معذرت بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے عیدالفطر کے موقع پر بھی بڑے شہروں میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر موبائل فون سروس بند کردی تھی جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے پیاروں اور دوستوں سے رابطے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔