.

پرویز مشرف کی بے نظیر بھٹو قتل کیس میں باضابطہ گرفتاری

سابق صدر کو جمعہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق صدر پرویز مشرف کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے۔

عدالت عالیہ لاہور کے راول پنڈی بنچ میں سابق فوجی صدر کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے انھیں جمعرات کو گرفتار کیا ہے لیکن وہ اس کے باوجود اسلام آباد میں واقع چک شہزاد میں اپنے فارم ہاؤس میں زیر حراست رہیں گے اور انھیں جمعہ کو راول پنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان کے خلاف سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔بے نظیر بھٹو27 دسمبر 2007ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد خودکش بم دھماکے اور فائرنگ میں قتل ہوگئی تھیں۔اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک کے صدر تھے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فروری 2011ء میں انھیں اس کیس میں ماخوذ قرار دیا تھا۔عدالت نے اسی سال اگست میں انھیں مفرور قرار دے دیا تھا اور ان کی جائیداد ضبط کر لی تھی۔اب عدالت کے حکم پر ایف آئی اے ان سے تفتیش کرے گا۔

عدالت عالیہ لاہور کے ایک ڈویژن بنچ نے بدھ کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں دائر کردہ ضمانت کی درخواست ان کے وکلاء کی عدم پیروی کی بناء پر مسترد کردی تھی۔

سابق فوجی صدر اس وقت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر اپنے پرتعیش گھر ہی میں پندرہ روز کے جوڈیشیل ریمانڈ پر قید ہیں اور ان کی قیام گاہ کو حکام نے عارضی سب جیل قرار دے رکھا ہے۔

گذشتہ ماہ بیرون ملک پاکستان واپسی کے بعد پرویزمشرف کے خلاف ماتحت عدالتوں میں نومبر 2007ء میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معزول کرکے نظربند کرنے،بلوچ لیڈر اکبربگٹی کے فوجی کارروائی میں قتل اور لال مسجد آپریشن میں بے گناہوں کی ہلاکتوں کے الزامات میں الگ الگ مقدمات چلائے جارہے ہیں۔۔اس دوران یہ بھی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ انھیں غیر مرئی طاقتیں رہا کروا کے دبئی بھجوانے کی تیاری کررہی ہیں۔