.

زیارت: قائد اعظم ریزیڈینسی راکٹ حملوں کے بعد مکمل طور پر جل گئی

قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت دنیا بھر میں بلوچستان کی شناختی علامت تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی کے نام سے موسوم عمارت کو جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب نامعلوم افراد کی جانب سے راکٹ حملے کے بعد آگ لگ گئی جس سے پاکستان ایک اہم قومی ورثے سے محروم ہو گیا ہے۔ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر جاں بحق جبکہ عمارت کا چوکیدار زخمی ہوگیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ اسی رہائشگاہ میں قیام کیا تھا جس کی وجہ سے یہ عمارت دنیا بھر میں بلوچستان صوبے کا تعارف بنی رہی۔

ڈپٹی کمشنر زیارت طاہر ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ ہفتے کی شب قائد اعظم ریزیڈنسی پر نامعلوم افراد نے چار راکٹ فائر کیے، جس کی وجہ سے اس عمارت میں شدید آگ بھڑک اُٹھی۔ آگ نے چار گھنٹے میں تاریخی قائد اعظم ریزیڈینسی کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ راکٹ قریبی پہاڑوں پر سے رات ڈیڑھ بجے کے قریب فائر کیے گئے، جس کے باعث لکڑی سے بنی اس تاریخی عمارت میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق راکٹ داغنے والے حملہ آوروں کی تعداد تین تھی۔

عمارت میں آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔ چنانچہ کوئٹہ سے فائرٹینڈر بلائے گئے جو دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے اور دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔ تاہم اس آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس عمارت میں بم بھی نصب کیے گئے تھے، اس کی اطلاع ملتے ہی کوئٹہ سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی طلب کرلیا گیا تھا، جس نے قائد اعظم ریزیڈینسی پہنچتے ہی عمارت میں نصب چار بم ناکارہ بنا دیے ۔

عمارت کی تاریخ

قائد اعظم ریزیڈنسی کی عمارت وادیٔ زیارت کے خوبصورت اور پُرفضا مقام پر واقع تھی زیارت کوئٹہ سے تقریباً ایک سو بائیس کلو میٹر دور ہے۔ یہ خوبصورت اور پُروقار رہائش گاہ 1892ء کے اوائل میں لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔ اس دور میں برطانوی حکومت کے اعلیٰ افسران وادی زیارت کے دورے کے موقع پر اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ بلوچستان کے پولیٹکل ایجنٹ بھی گرمیوں میں یہیں سے سرکاری امور انجام د یتے تھے۔

اس عمارت کے بیرونی حصے میں چاروں طرف لکڑی کے ستون ہیں اور عمارت کے اندرونی حصے میں بھی لکڑی کا ا ستعمال بہت خو بصورتی سے کیا گیا تھا، آٹھ کمروں پر مشتمل اس رہائش گاہ میں دونوں اطراف سے مجموعی طور پر 28 دروازے بنائے گئے تھے۔

قیام گاہ بانی پاکستان

اس رہائش گاہ کی تاریخی اہمیت میں قیام پاکستان کے بعد 1948ء کےدوران اس وقت اضافہ ہوا، جب یکم جولائی کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ناسازئ طبیعت کے باعث یہاں تشریف لائے۔ قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائشگاہ میں قیام کیا۔

قائد اعظم کے انتقال کے بعد اس رہائش گاہ کو “قائد اعظم ریزیڈنسی” کے نام سے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے عجائب گھر میں تبد یل کر دیا گیا، جہاں قائد اعظم کے زیر استعمال ر ہنے والی اشیاء کو نمائش کے لیے ر کھا گیا تھا۔ یہاں قائداعظم کے زیرِ استعمال کمروں میں ایسی کئی تصاویر آویزاں کی گئی تھیں، جو قائد اعظم نے اپنی بیٹی، بہن، بلوچستان کے قبائلی عمائدین اور دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ کھنچوائی تھیں، لیکن اب یہ سارا تاریخی ورثہ راکٹ حملے سے لگنے والی آگ سے جل کر خاکستر ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ قائد اعظم ریزیڈنسی کی یہ باوقار عمارت بلوچستان کی پہچان بن گئی تھی، بہت سے ٹی وی چینلز بلوچستان کے آئیکون کے لیے اسی عمارت کی تصویر کو استعمال کرتے تھے۔ 100 روپے کے کرنسی نوٹ کے پچھلے حصے پر اسی عمارت کی تصویر موجود ہے۔

اکتوبر 2008ء کو زیارت، پشین اور دیگر علاقوں میں آنے والے زلزلے کے باعث اس عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد پاک فوج نے عمارت کی دوبارہ مرمت اور تزئین و آرائش کی تھی۔