.

کوئٹہ دھماکے، فائرنگ: ڈی سی، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 20 جاں بحق

صوبائی حکومت کا اتوار کے روز بلوچستان میں یوم سوگ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر، طالبات، بچوں اور تین سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 20 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

نفصیلات کے مطابق ہفتے کے روزکوئٹہ میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی بس میں دھماکے سے چودہ خواتین جاں بحق جبکہ بولان میڈیکل اسپتال میں فائرنگ کے واقعات میں ڈپٹی کمشنر اور تین سیکیورٹی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اس دوران فورسز کی کارروائی میں چار حملہ آور بھی مارے گئے۔

بلوچستان حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات پر کل صوبے بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔

یونیورسٹی بس دھماکے کے بعد جب جاں بحق اور زخمی ہونے والی طالبات کو ایک مقامی ہسپتال پہنچایا گیا، تو وہاں ان کے بہت سے اہل خانہ اور عزیز و اقارت بھی جمع ہو گئے تھے۔ عین اسی وقت اس ہسپتال میں بھی ایک بم دھماکا ہوا، جس کے بعد نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اس پر وہاں موجود افراد کو اپنی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے دور بھاگنا پڑا۔

بولان میڈیکل کمپلیکس میں دھماکے کے بعد شدید فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عبدالصبور خان جاں بحق اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر شدید زخمی ہو گئے۔ مسلح افراد جن کی تعداد پانچ سے سات بتائی گئی ہے نے ڈی آئی جی ، صحافیوں، مریضوں اور ان کے لواحقین کو یرغمال بنا لیا تھا۔ صورتحال کے پیش نظر ایف سی کو طلب کیا گیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن کی فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔

اس دوران دستی بم کے حملے میں چار ایف سی اہلکار بھی جاں بحق جبکہ فرینٹر کور 'ایف سی' کے کپتان ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں کی فائرنگ سے چار نرسیں بھی جاں بحق ہو گئیں۔ تقریبا 4 گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد بولان کمپلیکس کو کلیئر کرا لیا گیا۔ سی سی پی او کوئٹہ زبیر محمود کے مطابق آپریشن کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے جبکہ اہک کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔