.

مشرف کے خلاف عالم دین اور ان کی والدہ کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمے کی ایف آئی آر عدالت کے حکم پر کاٹی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ کے حکم پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف لال مسجد کے عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

حافظ ہارون رشید نے لال مسجد آپریشن میں اپنے والد غازی عبدالرشید اور والدہ کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ پیر کو جسٹس نورالحق قریشی پر مشتمل سنگل بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گُزار کے وکیل طارق اسد نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لال مسجد آپریشن کی تحقیقات کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی سربراہی میں قائم ہونے والے عدالتی کمیشن نے اس واقعہ کی ذمہ داری اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے سامنے اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز سمیت سابق وفاقی وزراء نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف پر عائد کی تھی۔

سماعت کے دوران ایس ایچ او آبپارہ قاسم نیازی اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ عدالتی حکم کے باوجود مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا؟

بعد میں جسٹس قریشی نے ایس ایچ او آبپارہ کو کمرہ عدالت میں پابند کرتے ہوئے حکم دیا کہ احاطہ عدالت میں ہی قتل کا مقدمہ درج کر کے نقل عدالت کو فراہم کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت کو ملنے تک ایس ایچ او عدالت سے جا نہیں سکتے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف اس سے پہلے تین مقدمات درج ہیں جن میں سے وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں وہ گرفتار ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے جبکہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف سابق فوجی صدر کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

جولائی سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو کے قریب افراد مارے گئے تھے اور اُس وقت کی حکومت اُنہیں ’شدت پسند‘ قرار دے رہی تھی جبکہ لال مسجد انتظامیہ کے مطابق اس آپریشن میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے اور ان میں جامعہ حفصہ کی طالبات بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران گم ہونے والے متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان افراد نے حکومتی عمل داری کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔