.

پاک افغان سرحد کے نزدیک بم دھماکا، دو اعلیٰ فوجی افسروں سمیت تین شہید

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں بم دھماکے میں پاک آرمی کے دو اعلیٰ افسروں سمیت تین اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق اتوار کو شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپردیر کے علاقے بن شاہی میں سڑک کے کنارے نصب بم کا دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں میجر جنرل ثناء اللہ، لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار شہید ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں دو اور فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ شہید میجر جنرل ثناء اللہ سوات ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ آفیسر (جی سی او) اور کرنل توصیف پاک فوج کی 33 بلوچ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔

دونوں اعلیٰ فوجی افسر ضلع دیر بالا میں پاک افغان سرحد پر فوج کی اگلی چوکیوں کے دورے پرگئے تھے۔ جب واقعہ پیش آیا ہے، اس وقت وہ وہاں سے واپس آرہے تھے اور سڑک کے کنارے نصب بم سے ان کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں فوجی افسروں پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دونوں اعلیٰ فوجی افسروں کی شہادت کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حکومت پاکستان طالبان جنگجوؤں کے ساتھ امن عمل شروع کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اقدامات کررہی ہے اور اس واقعہ سے حکومت کی امن کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

پاک فوج بھی حکومت کی شمالی علاقوں میں قیام امن کے لیے کوششوں کی حمایت کررہی ہے۔ اس نے اگلے روز ہی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے اور اس نے جنوبی وزیرستان میں اپنے دو فوجیوں کے بدلے میں چار طالبان جنگجوؤں کو رہا کیا تھا۔

پاکستان کے سنئیر تجزیہ کار اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سواتی طالبان کے بھگوڑے لیڈر ملا فضل اللہ کا دیر بالا میں پاک فوج کے اعلیٰ افسروں پر بم حملے میں ہاتھ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملا فضل اللہ نے افغانستان کے پاکستان کی شمال مغربی صوبوں نورستان اور کنڑ میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں بم دھماکا ہوا ہے یہ قدرے پرامن تھا اور شہید میجر جنرل اکثر اس علاقے میں آتے جاتے رہتے تھے۔