.

پاکستانی طالبان کی امن کے لیے شریعت کے نفاذ کی شرط

افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی سے خطے میں امن ممکن نہیں:سمیع الحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نامزد کردہ مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ ''ملک میں حکومت کی جانب سے شریعت کے نفاذ اور پڑوسی ملک افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بغیر امن قائم نہیں ہوگا''۔

طالبان جنگجوؤں کی جانب سے یہ سخت شرائط بدھ کو سامنے آئی ہیں اور ان کے بعد مجوزہ مذاکرات کی کامیابی کا بہت کم امکان نظر آرہا ہے۔ٹی ٹی پی کی نامزد کردہ تین رکنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر سرحد پار امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو خطے میں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا''۔

ان کے اس بیان کی ٹی ٹی پی کے ایک اور مذاکرات کار مولانا عبدالعزیز نے بھی تائید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ'' شریعت کے نفاذ کے بغیر طالبان مذاکرات کو ایک فی صد بھی قبول نہیں کریں گے''۔انھوں نے کہا کہ اگر طالبان کے بعض دھڑے مذاکرات کو قبول کریں گے تو دوسرے ان کو قبول نہیں کریں گے۔

مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ ''ان (طالبان) کا حقیقی ایجنڈا شریعت ہے اور سیکولر قانون کی بنیاد پر قائم عدالتوں کو ختم کیا جانا چاہیے''۔انھوں نے کہا کہ ''میرے خیال میں حکومت اس کو قبول نہیں کرے گی لیکن اسے کرنا چاہیے کیونکہ جنگ آگے بڑھنے کا رستہ نہیں ہے''۔

مولانا عبدالعزیز نے امریکا اور افغانستان کے درمیان مجوزہ سکیورٹی معاہدے کے حوالےسے کہا کہ اس کی افغان حکومت کی جانب سے توثیق سے علاقائی امن کے لیے تمام امیدیں دم توڑ دیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان دو برادر اسلامی ملک ہیں اور پاکستان میں امن کا مقصد افغانستان میں امن ہوگا لیکن اگر افغانستان سکیورٹی معاہدے پر دستخط کردیتا ہے تو مسلمانوں اور امریکا کے درمیان لڑائی جاری رہے گی اور امریکا کو پہلے کی طرح نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔

مولانا سمیع الحق کا بھی کہنا تھا کہ ''اگر امریکی افغانستان میں موجود رہتے ہیں تو پھر خطے میں کوئِی امن نہیں ہوگا اور یہ پہلے کی طرح غیر محفوظ رہے گا''۔

درایں اثناء حکومت پاکستان کی نامزد کردہ چار رکنی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ امن مذاکرات دو ایک روز میں شروع ہوجائیں گے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ دونوں کمیٹیوں کے اجلاس کی جگہ اور وقت کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے منگل کو طالبان جنگجوؤں کے نامزد کردہ مذاکرات کاروں سے ملنے سے انکار کردیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اسے ان کی ہئیت ترکیبی کے بارے میں کنفیوژن ہے۔تاہم عرفان صدیقی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی مذاکراتی ٹیم کے بارے میں ابہام دور ہوگئے ہیں۔

طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق،جماعت اسلامی کے رہ نما پروفیسر محمد ابراہیم،لال مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز ،پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت العلماء اسلام (ف) کے سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ کو ہفتے کے روز نامزد کیا تھا۔عمران خان اور مفتی کفایت اللہ اس کمیٹی سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کو اب مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی سے ہی مذاکرات کرنا ہوں گے اور اس کمیٹی کو طالبان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔