دنیا میں پاکستان کا امیج اپنی پالیسوں سے خراب ہوا: نواز شریف

ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغاستان پر پہلے سوویت حملے سے انخلاء تک اور اب نائن الیون کے بعد امریکی حملے کے دوران اہم کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دہشت گردوں کا ذکر کرتے ہوئے دو ٹوک کہا ہے کہ'' ہم انہیں ریاستی یا غیر ریاستی عناصر قرار دے جان نہیں چھڑا سکتے ہیں۔ یہ جو کچھ ہے ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے اس وجہ سے آج ہم پوری دنیا کے سامنے شرمندہ ہیں۔''

وزیر اعظم نے اس امر کا اظہار لاہور میں میڈیا سے مختصر بات چیت کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر میاں نواز شریف نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کی مذاکرتی کمیٹی کے درمیان ہونے والے ابتدائی رابطوں اور مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان جو ان دنوں ایک مرتبہ پھر پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ قربت اور دوستی کے علاوہ اقتصادی روابط کو مستحکم بنانے کے ایجنڈے کو اہمیت دے رہے ہیں ماضی کے تنازعات کا ذکر کیے بغیر اپنے ملک کے پالسی سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے منتخب رہنما نے پاکستان کو درپیش دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو اپنی ہی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا ان پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کا امیج پوری دنیا میں خراب ہوا ہے۔

میاں نواز شریف نے ان پالیسیوں سے نجات کا ذکر کیے بغیر ان پر تنقید کے ساتھ ساتھ طالبان کی مذاکرات کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات پر اطمینان ظاہر کیا۔

واضح رہے زیر بحث پالیسیوں کے خالق حکمرانوں سے خود میاں نواز شریف کا گہرا تعلق رہا ہے۔ افغانستان پر سوویت یلغار کی مزاحمت پر مبنی پالیسی کے خالق مرحوم جنرل ضیاء الحق میاں نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں میں لانے کا ذریعہ بنے تھے جبکہ نائن الیون کے بعد امریکا کو افغانستان پر حملے میں ہر طرح کی سہولت دینے والے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف کے منصب تک لانے والے خود میاں نواز شریف تھے۔

تاہم اب وزیراعظم پاکستان کے رجحانات ماضی سے ہٹ کر امن کی آشا کی طرف مائل ہیں۔ اسی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی بھی اختیار کی گئی ہے کہ ملک میں امن ہو اور اقتصادی میدان میں پاکستان آگے بڑھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں