.

کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے، 18 جاں بحق متعدد زخمی

دونوں مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف آج جمعہ کے روز جب کراچی کے قدیمی علاقے لیاری میں دہشت گردی کے باعث 16 ہلاکتوں سے پیدا شدہ صورت حال کا جائزہ لینے کیلیے کراچی میں ہی موجود تھے، پاکستان کے انتہائی حساس دو صوبائی دارالحکومتوں پشاور اور کوئٹہ میں مجموعی طور پر 18 افراد دھماکوں کی نذر ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں سرکاری اہلکاروں کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

پہلا دھماکہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے سربند میں اس وقت سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جب وہ نماز جمعہ سے پہلے معمول کی حفاظتی گشت پر مامور تھے۔ سربند کا یہ علاقہ قبائلی علاقے باڑہ سے جڑا ہوا ہے۔

دہشت گردوں نے گشت میں شامل پولیس کی بکتربند نما اے پی سی کے قریب دھماکہ کیا۔ دھماکے سے قریب ہی واقع پٹرول پمپ کے علاوہ دکانوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم سات افراد جاں بحق ہو گئے ۔ جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی دہشت گردی کی کئی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ پولیس چوکی پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر حیات میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر کے ان کا علاج معالجہ شروع کردیا گیا ہے۔ صوبہ خیبر میں یہ دھماکہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب طالبان کی مذاکراتی کمیٹی طالبا ن قیادت سے مشاورت کیلیے وزیرستان میں موجود تھی۔ تاہم کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ دریں اثنا صوبے کے آئی جی نے حالیہ واقعات مین غیر ملکی ہاتھ کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔

دوسرا دھماکہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نماز جمعہ کے کیا گیا ہے۔ یہ دھماکہ جناح روڈ پر واقع سائنس کالج چوک پراس وقت کیا گیا جب ایف سی کا قافلہ اس چوک سے گذر رہا تھا۔ بظاہر یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا معلوم ہوتا ہے تاہم ابھی سکیورٹی حکام نے کچھ واضح نہیں کیا ہے۔

اس دھماکے کی زد میں ایک بس ، متعدد گاڑیوں اور قریب سے گذرنے والے کئی رکشے بھی آئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں طلبہ بھی شامل ہیں۔ دھما کے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واض رہے طالبان کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کے کامیابی کی طرف بڑھنے کے امکان کے موقع حکومت کی طرف سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ مذاکرات کو ناکام بنانے والے کارروائیاں کر سکتے ہیں۔