.

''باہر جانے دیا جائے'' مشرف کی درخواست سماعت کیلیے منظور

سندھ ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ سماعت کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک فوج کے امراض قلب کے ادراے میں تقریبا تین ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد علاج کیلیے کراچی پہنچنے والے سابق صدر و سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست سماعت کیلیے منظور کر لی گئی ہے۔ درخواست میں پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقر نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ قائم کر دیا ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ''میرے موکل کا نام ای سی ایل میں شامل کر کے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ''

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ انہوں نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو درخواست دی کہ ان کے موکل کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے، لیکن جواب دیا گیا کہ ان کے خلاف کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ اس لیے ان کا نام ای سی ایل سے خارج نہیں کیا جا سکتا ۔

واضح رہے پچھلے سال ماہ اپریل میں وفاقی حکومت نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا۔ وفاقی حکومت کو خدشہ تھا کہ پرویز مشرف اپنے خلاف مقدمات کو چھوڑ کر ملک سے باہر جا سکتے ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اور بھی بہت سارے لوگوں کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی ایسی قدغن نہیں ہے۔ جبکہ میرے موکل کو کسی بھی عدالت نے ملک سے باہر جانے سے روکا نہیں ہے۔ اس لیے یہ محض انتقامی کارروائی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے عدالتیں جب چاہیں پرویز مشرف کو طلب کر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کو ان دنوں آئین شکنی کے مقدمے کے علاوہ سابق وزیر اعظم بے نطیر بھٹو اور سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے قتل سے متعلق مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے سابق آرمی چیف کی درخواست سماعت کیلیے منظور کرتے ہوئے نے دو رکنی بنچ قائم کر دیا ہے۔