.

پاکستانی طالبان ملک کے آئین کو تسلیم کرلیں گے:مذاکرات کار

پاکستان آرمی اورطالبان جنگجو امن مذاکرات کے حقیقی فریق ہیں:پروفیسر محمد ابراہیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے دوارکان پروفیسر محمد ابراہیم اور مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ طالبان ملک کے آئین کو تسلیم کرلیں گے۔

دونوں مذاکرات کار صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات کو منعقدہ ایک قبائلی جرگے میں تقریر کررہے تھے۔جماعت اسلام کے رہ نما پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان آرمی اور طالبان امن مذاکرات کے حقیقی فریق ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ تنازعے کو کسی فوجی آپریشن یا جنگجوؤں کے حملوں سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غاروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ابلاغ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ارباب اقتدار کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کی آزادی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ دفاع پاکستان میں بھی ہراول کا کردار ادا کررہے ہیں لیکن قبائلی عوام کو ان کے آَئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

مولانا سمیع الحق نے جرگے کو بتایا کہ انھوں نے طالبان کو امن مذاکرات کے معاملے میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات میں تاخیر نہ کریں اور اس عمل کو آگے بڑھائیں۔

پروفیسرابراہیم اور مولانا سمیع الحق دونوں نے جرگے سے خطاب میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان پاکستان کے آئین کو تسلیم کرلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام قبائلی زعماء امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان دونوں کے علاوہ لال مسجد اسلام آباد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔مولانا عبدالعزیز نے فروری کے اوائل میں حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ آئین کے تحت مذاکرات کی شرط کو ختم کرے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر قرآن وسنت ہمارا آئین ہوتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔اب طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے موجودہ آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں''۔

لیکن لگتا ہے کہ اول الذکر دونوں مذاکرات کاروں نے گذشتہ دوماہ کے دوران طالبان سے بات چیت کے عمل میں انھیں ملکی آئین کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیا ہے اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہے اور وہ تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر زوردیا ہے۔