.

نیٹو کنٹینرز پر حملہ ، دو جاں بحق، کنٹینر نذر آتش

خیبر ایجنسی میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں طالبان کی رضاکارانہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر پے در پے خونریز واقعات ہونے لگے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیر کی صبح خیبر ایجنسی کے علاقے میں نیٹو کنٹینرز کے حوالے سے پیش آیا ہے۔

حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کیلیے سامان لے جانے والے کنٹینر حملہ کر دیا جس سے کنٹینر کے ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ڈرائیور اور کنٹینر کے کلینر بعد ازاں دم توڑ گئے۔ جبکہ حملہ آور موقع سے بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

حملے کے بعد کنٹینز کو آگ لگ گئی، مقامی لوگوں کے مطابق یہ آگ حملہ آوروں نے ہی لگائی ، جبکہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹینر کو بعد ازاں خود ہی آگ لگ گئی تھی اور اس کی وجہ فاِئرنگ ہی بنی تھی۔ واضح رہے حالیہ دنوں میں اس علاقے میں نیٹو کنٹینرز پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

دس اپریل کے بعد طالبانہ کی رضاکارانہ جنگ بندی دس روزہ توسیع کے ساتھ ختم ہو چکی ہے۔ اس توسیع کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے بھی ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے بھی دہشت گردوں کونشانہ بنایا ہے۔ آج پیر کی صبح ہونے والی اس نیٹو سپلائی کے خلاف اس کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

پاکستان کے راستے افغانستان لے جایا جانے والا نیٹو سامان عام طور پر نشانہ بنتا ہے ۔ البتہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کے باوجود امریکی فورسز کو افغاستان نسبتا محفوظ انداز میں پہنچنا ممکن ہو تا ہے