خان سجنا کی علاحدگی، ٹی ٹی پی وزیرستان سے محروم

تحریک طالبان و کمانڈروں کے مستقبل کا انحصار کرزئی غیر ملکی افواج پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر خان سید سجنا کے تحریک سے علاحدگی کے اعلان سے نہ صرف تنظیم کے امیر ملا فضل اللہ کی امارت خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ گروپ کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ بھی ہاتھ سے نکلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ خان سید سجنا کے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی امیر فضل اللہ کے خلاف اس باغیانہ فیصلے سے تحریک طالبان پاکستان کے لیے اب قبائلی علاقہ جات میں نسبتا واحد محفوظ علاقہ مہمند ایجنسی رہ گیا ہے لیکن مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والا عسکری کمانڈر عبدالولی عرف عمر خالد خود افغانستان میں اور مہمند ایجنسی میں پاک فوج موجود ہے۔ اسی وجہ سے فضل اللہ کے اس اہم اتحادی کمانڈر عمر خالد کو بھی حامد کرزئی کے افغانستان میں پناہ لینا پڑی ہے۔

طالبان سے متعلق ذرائع کے مطابق خان سجنا کے تحریک طالبان سے الگ ہونے کا اعلان بظاہر تازہ واقعات کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کی اصل وجہ کمانڈر ولی الرحمان محسود تھا، جو باضابطہ طور پر فارغ التحصیل مفتی ہونے کے ناطے تحریک طالبان کی اغوا برائے تاوان کی سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کو ہلاکت میں ڈالنے کے حق میں نہیں تھے، حتی کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بھی حق میں تھے۔ مفتی ولی الرحمان جہاد کو بدنام کرنے کا ذریعہ بننے والی کارروائیوں کے خلاف فضل اللہ ہی نہیں حکیم اللہ محسود سے بھی کہتا رہتا تھا۔ اس سوچ کا منطقی اور شرعی جواب نہ ہونے پر حکیم اللہ محسود نے ولی الرحمان کو ہلاک کرنے کیلیے اس کی رہائشگاہ کے باہر بارودی سرنگ بھی بچھوا دی تھی۔

دونوں کی سوچ میں کرنل امام کو شہید کیے جانے کے واقعے نے اور زیادہ فاصلہ پیدا کر دیا اور نہ ختم ہونے والا اختلاف پیدا ہو گیا۔ لیکن ولی الرحمان نے تصادم کے بجائے تحریک طالبان میں شامل مختلف گروپوں کے ساتھ مکالمے کی بنیاد پر جہاد کو بدنام کرنے اور اسلام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں پر افہام و تفہیم بڑھانے کام کام شروع کر دیا۔

اسی دوران مفتی ولی الرحمان محسود نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں بھی طالبان میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں 65 عسکری گروپوں میں سے مذاکرات کے خلاف صرف چار گروپ رہ گئے۔ خان سجنا بھی ولی الرحمان کی سوچ کا حامی کمانڈر ہے۔

ٹی ٹی پی کی قیادت کیلیے جان لیوا ثابت ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد خان سجنا کی قیادت کی بات آئی تو عصمت اللہ شاہین نے اس کا راستہ روکنے کیلیے سرگرمی دکھائی اور ملا فضل اللہ کیلیے راہموار ہو گئی، تاہم خان سجنا نے مجلس شوری سے یہ تسلیم کرا لیا کہ امیر بااختیار نہیں ہو گا اور حتمی فیصلے شوری کے ہوں گے۔

اب خان سجنا کے تحریک طالبان سے الگ ہونے کے اعلان کا صاف مطلب ہے کہ جنوبی وزیرستان میں مکین اور لدھے کے علاقے تحریک طالبان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں اور جنوبی وزیرستان تحریک طالبان کے لیے محفوظ نہیں رہا ہے، محسود قبائل کی از سرنو حمایت حاصل کرنے کیلیے تحریک طالبان کو اب اپنا امیر بدلنا ہو گا یا اپنے وجود کو براہ راست خطرے میں ڈالنا ہو گا۔ ان حالات میں تحریک طالبان کے پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے حامی گروپوں اور ان کے کمانڈروں کی بقاء حامد کرزئی اور اس کے افغانستان کی محافظ غیر ملکی افواج پر منحصر ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں