.

حافظ گل بہادر دھڑے کا حکومت سے امن معاہدہ منسوخ

شمالی وزیرستان کی مقامی آبادی کو 10 جون تک افغان سرحد کی جانب چلے جانے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کی قیادت میں جنگجوؤں کے دھڑے نے حکومت پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔

حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمد اللہ احمدی نے میڈیا کو ایک پمفلٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ''ان کے جنگجو سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے مقابلے کی تیاری کررہے ہیں''۔اس میں مقامی لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 10 جون تک محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں۔

مقامی آبادی میں یہ پمفلٹ جمعہ کو تقسیم کیا گیا ہے۔اس میں پاکستانی حکومت پر شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ توڑنے کا الزام عاید کیا گیا ہے اور یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ''مجاہدین کی شوریٰ نے سکیورٹی فورسز کی جارحیت سے کوئی رورعایت نہ برتنے اور لڑائی اور وزیرستان کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے''۔

طالبان کے اس دھڑے نے مقامی لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حکومت کے زیر انتظام کیمپوں میں پناہ لینے سے گریز کریں بلکہ اس کے بجائے افغان سرحد کے نزدیک واقع علاقوں کی جانب چلے جائیں تاکہ وہ وہاں سے بآسانی افغانستان جا اور آ سکیں۔

اس دھڑے نے مقامی لوگوں سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت اور فوجی حکام کے ساتھ مذکورہ تاریخ تک ہر طرح کے روابط منقطع کردیں۔پمفلٹ میں جنگجوؤں کے اس انتباہ پر کان نہ دھرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد کسی کو بھی فوجی کیمپوں اور سرکاری دفاتر میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس دھڑے نے 10 جون کے بعد افغانستان میں ہرطرح کی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اب سرحد پار لڑائی کے لیے کسی جنگجو کو نہیں بھیجے گا بلکہ صرف شمالی وزیرستان کے دفاع پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر گذشتہ کئی روز سے فضائی حملے کررہی ہیں۔سرکاری حکام نے اب تک اس بمباری میں اکہتر افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ان مہلوکین میں مقامی اور غیر ملکی جنگجو شامل ہیں۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کے حملوں میں اسّی افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔گذشتہ ہفتے سے جاری اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔