چوتھا دن: عمران خان کی محاصل ادا نہ کرنے کی تحریک

وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کا الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے مسلسل چوتھے روز انقلاب مارچ جاری رکھا ہے۔ دونوں جماعتیں وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے اپنا مطالبہ تسلیم ہونے تک حکومت کو محاصل ادا نہ کرنے کی تحریک کا اعلان کردیا ہے۔

عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ ''وہ دودن میں مستعفی جائیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر ان کا اپنے کارکنوں پر کوئی کنٹرول نہیں رہے گا''۔

آج تحریک انصاف کے کارکنان نے کشمیر ہائی وے پر اپنے دھرنے کو انتہائی سکیورٹی والے علاقے ریڈ زون تک لے جانے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے سیرینا ہوٹل کے نزدیک شاہراہ پر پڑے خاردار تاروں اور دوسری رکاوٹوں کو ہٹا دیا اور ریڈ زون کی جانب بڑھنے لگے لیکن عمران خان نے انھیں آگے جانے سے روک دیا۔

انھوں نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ دو دن کے بعد اپنے کارکنان کو روک نہیں سکیں کیونکہ ہم اس جعلی وزیر اعظم کو قبول نہیں کرتے، ہم اس حکومت کے تمام کرپٹ ارکان کو بے نقاب کریں گے''۔

انھوں نے مارچ کے شرکاء سے کہا کہ ''وہ ٹیکس اور بجلی کے بل ادا نہ کریں اور میاں نواز شریف کے مستعفی ہونے تک جنرل سیلز ٹیکس بھی ادا نہ کریں''۔ وہ جب یہ اعلان کر رہے تھے تو ان کے حامیوں کا اجتماع اس پر داد وتحسین کے ڈونگرے برسا رہا تھا کیونکہ پاکستان میں سرکاری محاصل ادا نہ کرنے والوں کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور اب ان کے قائد محترم کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کرنے کی تحریک ان کے من کو بھائی ہے اور اگر وزیراعظم میاں نواز شریف مستعفی نہیں ہوتے تو یہ ٹیکس اور بجلی کے بل بھی ادا نہیں کریں گے۔یوں قومی خزانے میں سرکاری محاصل کی مد میں کم رقوم جمع ہوں گے جس سے حکومت کے لیے معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔

عمران خان نے تقریر میں دعویٰ کیا کہ ''محصولات ادا نہ کرنے سے بدعنوان حکومت پر بڑَے منفی اثرات مرتب ہوں گے''۔ انھوں نے کہا کہ ''میں یہ سول نافرمانی اپنے لیے نہیں کرر ہا ہوں بلکہ آپ کے لیے کررہا ہوں۔ ناانصافی، جبر واستبداد اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے یہ تحریک بہت ضروری ہے''۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل جیو کے مالک میرشکیل الرحمان کو بھی اپنی تقریر میں لتاڑا ہے اور انھیں کہا کہ ''آپ اور آپ کے چینل کو جانا ہوگا اور میں آپ کے ذمے واجب الادا کروڑوں روپے ٹیکس وصول کروں گا''۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز پی ٹی آئی کے کارکنان نے آزادی مارچ کی کوریج کرنے والے جیو نیوز سے وابستہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے الیکٹرانک آلات توڑ دیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ ہے۔ انھوں نے تقریر میں میاں نواز شریف کی مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف اپنے جمع کردہ اعداد وشمار پیش کیے اور ان پر یہ الزام عاید کیا کہ انھوں نے ذاتی مفاد کے لیے نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو خرید لیا تھا۔

انھوں نے اس کے بعد اپنے کارکنان سے سوال کیا کہ انھیں اب کیا کرنا چاہیے۔اس کے ردعمل میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے شرکاء نے ''گو نواز شریف گو'' کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے۔ عمران نے اجتماع سے اپنی اس تقریر کو اپنی سیاسی کیرئیر کی سب سے اہم تقریر قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے حکومت مخالف آزادی اور لانگ مارچ لاہور سے کئی گھنٹے کے سفر کے بعد ہفتے کے روز علی الصباح دارالحکومت اسلام آباد میں پہنچے تھےاور دونوں جماعتیں آبپارہ کے علاقے میں دو الگ الگ شاہراہوں پر جلسے کر رہی ہیں۔ گذشتہ تین روز کے دور وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کے باوجود جلسہ گاہ میں ہزاروں کارکنان کھلے آسمان تلے موجود رہے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اپنے کارکنوں سے گرما گرم خطابات میں وزیر اعظم نواز شریف سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبے کے پورے ہونے تک اسلام آباد ہی میں موجود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے گذشتہ روز اپنا دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور حکومت کو اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

تاہم بہت سے سرکردہ سیاست دان اور تجزیہ کاروں ان دونوں لیڈروں کے وزیراعظم کے استعفے اور حکومت کی تحلیل سے متعلق مطالبات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے جبکہ حکومت نے بھی ابھی تک ان کے کسی مطالبے کو تسلیم کرنے کا اشارہ نہیں دیا ہے اور نہ ان سے ان مطالبات پر بات چیت کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں