.

طالبان کے بچوں کے معلم پروفیسر اجمل خان کی رہائی

اسلام آباد کے دھرنوں کی غوغا آرائی میں بازیابی کی بڑی خبر گم ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری دو جماعتوں کے دھرنوں پر میڈیا کی تمام تر توجہ مرکوز ہونے کی وجہ سے ناظرین اور قارئین ایک بڑی خبر کی تفصیل جاننے سے محروم رہ گئے ہیں اور یہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی چار سال کے بعد بازیابی کی خبر تھی۔

پروفیسراجمل خان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے ستمبر 2010ء میں صوبہ خیبر پختونوا کے دارالحکومت پشاور سے اغوا کر لیا تھا۔انھیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے بازیاب کرایا ہے۔

انھیں طالبان جنگجوؤں نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوّال میں کسی خفیہ مقام پر رکھا ہوا تھا۔انھوں نے اپنے گھر پہنچنے کے ایک روز بعد جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس کی ہے جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ وہ طالبان کی حراست کے دوران ان کے بچوں کو ریاضی اور انگریزی کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے گذشتہ روز ایک بیان میں صرف اتنا بتایا تھا کہ ''سکیورٹی فورسز نے پروفیسر اجمل کو بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے''لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی تھی کہ انھیں کیسے اور کہاں سے بازیاب کرایا گیا ہے۔

انھوں نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں اپنی رہائی کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی رہائی پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں کہ وہ اپنے گھر لوٹ آئے ہیں اور اپنے خاندان سے دوبارہ آملے ہیں۔آج ان کی رہائش گاہ پر عید کا سماں تھا اور وہاں ان کے عزیزواقارب اور ساتھی معلمین کا تانتا بندھا ہوا تھا۔

تریسٹھ سالہ پروفیسر اجمل صاحب کی صحت اچھی نظر آرہی تھی اور ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی بلکہ اب وہ باریش ہوچکے ہیں۔انھوں نے اپنی اسارت کے دنوں کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ''طالبان نے مجھ پر تشدد نہیں کیا لیکن گھر سے دوری تو بہ ذات خود ایک تشدد تھا اور مجھے چار سال کے بعد اپنے بچوں سے مل کر ناقابل بیان خوشی ہورہی ہے جو بچے چھوٹے تھے،وہ ان کی عدم موجودگی میں بڑے ہوچکے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''میری حراست کے دوران ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی تھی''۔ حکیم اللہ محسود نومبر 2013ء میں امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار جنگجو آٹھ نو ماہ کے بعد میرے خاندان سے میرا روابطہ کرادیتے تھے۔پروفیسر صاحب نامساعد حالات میں حراست کے دوران بھی معلمی کے پیشے کو نہیں بھولے تھے۔انھوں نے بتایا کہ ''ایک دن میرے پاس دوبچے آئے اور میں نے انھیں پڑھانا شروع کردیا۔بعد میں طالبان کے زیرتعلیم بچوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے بتیس ہوگئی اور میں ان کو ریاضی اور انگریزی کی تعلیم دیتا تھا''۔

پروفیسر اجمل صاحب نے مزید بتایا کہ ''طالبان جنگجوؤں نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا اور عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جو بھی ادویہ درکار ہوتی تھیں تو وہ مجھے مہیا کرتے تھے۔ابتدا میں دشواری پیش آئی تھی لیکن بعد میں ،میں اس قید کا عادی ہوگیا تھا۔اغواکاروں نے ایک ریڈیو بھی دے دیا تھا جس کے ذریعے میں حالات حاضرہ سے باخبر رہتا تھا''۔

واضح رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے پروفیسر اجمل کی متعدد ویڈیوز جاری کی تھیں۔ ان میں انھوں نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی رہائی کے سلسلہ میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان کے مطالبات تسلیم کرے۔

سرکاری حکام کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران بیک چینل کے ذریعے مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود طالبان نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو رہا کرنے سے انکار کردیا تھا اور وہ ان کے بدلے میں جیلوں میں قید طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ان کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز نے بھی کارروائیاں کی تھیں لیکن وہ انھیں تلاش کرنے اور بازیاب کرانے میں ناکام رہے تھے۔

جامعات اور کالجوں کے اساتذہ اور طلبہ کی تنظیموں نے خیبر پختونخوا کے شہروں اور قصبوں میں ان کے اغوا کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔اب ان کی بازیابی کے بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب مقتول سلمان تاثیر کے طالبان کے ہاتھوں یرغمال بیٹوں کی رہائی کی بھی امید پیدا ہوگئی ہے۔تاہم پروفیسر اجمل صاحب کا کہنا تھا کہ انھیں ان دونوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔