مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملہ ، دو جاں بحق

کوئٹہ میں مفتی محمود کانفرنس کے اختتام پر جلسہ گاہ کے باہر بم دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے بڑے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مذہبی وسیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیراہتمام جلسے کے بعد خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے صادق شہید اسٹیڈیم میں جمعرات کی سہ پہر منعقدہ مفتی محمود کانفرنس کے اختتام پر خودکش بمبار نے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔وہ اس وقت اسٹیڈیم سے باہر نکل رہے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ خودکش بم دھماکا جلسہ گاہ کے باہر ہوا ہے۔مفتی محمود کانفرنس میں جے یو آئی ف کے ہزاروں کارکنان شریک تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمبار نے آٹھ کلوگرام وزنی دھماکا خیز مواد جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔اسپتال ذرائع نے بم دھماکے میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے اور وہ دونوں جے یو آئی کے کارکنان ہیں۔تیس زخمیوں کو کوئٹہ کے سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں چھے کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جلسہ گاہ سے نکلتے وقت حملہ آور نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی بلٹ پروف کار میں سفر کررہے تھے،اس لیے وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔البتہ ان کی کار کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس عملیش خان نے نجی ٹی وی چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خودکش حملہ آور جلسہ گاہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو زیادہ جانی نقصان ہوتا۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ہی مولانا فضل الرحمان کو بلٹ پروف کار دی تھی اور یہ بم پروف نہیں تھی۔حملہ آور نے پہلے ان کے پیچھے آنے والی گاڑی پر چڑھنے کی کوشش کی تھی مگر ان کے محافظوں نے اس کو نیچے اتار دیا جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے اڑا لیا۔

یادرہے کہ مولانا فضل الرحمان پر تیسرا خودکش بم حملہ ہے۔اس سے پہلے مارچ 2011ء میں ان پر یکے بعد دیگرے دو خودکش بم حملے کیے گئے تھے لیکن وہ ان دونوں حملوں میں بھی محفوظ رہے تھے۔

کوئٹہ میں آج یہ دہشت گردی کا تیسرا واقعہ ہے۔اس سے پہلے کوئٹہ کے علاقہ ہزارہ گنجی میں مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس سے شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دہشت گردی کے ایک اور واقعہ میں شہر کے علاقے قنبرانی روڈ پر مسلح افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی اور بم حملہ کیا تھا جس میں دو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں