.

مہمند ایجنسی میں دو بم دھماکے ،6 جاں بحق

جماعت الاحرار نے امن کمیٹی پرحملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی علاقے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چھے افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز تحصیل صافی کے گاؤں چناری میں مقامی امن کمیٹی کے رضاکاروں کو ان دونوں بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بم دھماکوں میں مرنے والوں میں قبائلی سردار درا خان کا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ پہلے موٹر سائیکل پر سوار امن کمیٹی کے ارکان کو سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔اس بم دھماکے کے بعد جب لوگ زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں اٹھانے کے لیے وہاں اکٹھے ہوئے تو پھر دوسرا دھماکا کردیا گیا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردی کے واقعے کے بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور زخمیوں کو مقامی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔درایں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے جنگجو گروپ جماعت الاحرار نے ان دونوں دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن کمیٹی کے ارکان کو پاکستانی حکومت کی حمایت پر بم دھماکوں میں ہدف بنایا گیا ہے۔ترجمان نے قبائلی امن کمیٹیوں کے ارکان پر حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔