.

پاکستان میں پھانسی کی سزا پرعمل درآمد بحال

وزیراعظم نے دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومتِ پاکستان نے شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے ایک روز بعد دہشت گردی سے متعلق کیسوں میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد بحال کردیا ہے اور اب سزائے موت پانے والے دہشت گرد قیدیوں کو جلد تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وزیراعظم نے پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی معطلی کو ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے''۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے پشاور میں بدھ کو منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کے دفتر کی جانب اس سلسلے میں حکم کے اجراء کے فوری بعد صدر ممنون حسین نے ماضی میں سزائے موت پانے والے آٹھ دہشت گردوں کی رحم کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے۔

ایوان صدر میں ان دہشت گردوں کی سنہ 2012ء سے رحم کی اپیلیں زیر التوا پڑی تھیں اور آج بدھ کو صدر ممنون حسین نے اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ان کو مسترد کردیا ہے۔اس کے بعد ان مجرموں کو پھانسی دینے کے لیے متعلقہ جیلوں کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل ہی حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت العلماء اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل اور پوسٹل سروسز کے وزیر مملکت مولانا عبدالغفور حیدری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دینے سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور انسداد دہشت گردی کے لیے ملک میں قانونی طور پر محدود اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ''ریاست کو پھانسی کی سزا کو معطل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور صرف مقتول کے لواحقین ہی قاتل کو دیت لے کر یا اس کے بغیر معاف کرسکتے ہیں۔اسلام کا نظام انصاف یہی ہے اور ایک نظریاتی مملکت کے طور پر پاکستان مِں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جانا چاہیے''۔

اس وقت پاکستان بھر میں قریباً آٹھ ہزار قیدی پھانسی کے منتظر ہیں اور سزائے موت پانے والے افراد کی یہ تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے اپنے دور میں یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دباؤ پر پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا تھا اور ملک میں 2008ء کے بعد سے کسی بھی جرم میں سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔البتہ نومبر2012ء میں صرف ایک فوجی کو کورٹ مارشل کے بعد پھانسی دی گئی تھی۔تاہم اس دوران عدالتیں قتل اور دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کو پھانسی کی سزائیں سناتی رہی ہیں۔

افغان طالبان کی مذمت

درایں اثناء افغان طالبان نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے اور ا س میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بے گناہ بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

افغان طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''امارت اسلامی افغانستان نے ہمیشہ بچوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کی ہرمرحلے پر مذمت کی ہے۔بے گناہ لوگوں،خواتین اور بچوں کا ارادی قتل اسلام کے اصولوں کے منافی ہے اور ہر اسلامی تحریک اور حکومت کو اس کو ملحوظ رکھنا چاہیے''۔

بیان میں امارت اسلامی افغانستان نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی بیعت کا اعلان کرنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں نے پشاور میں کم سن طالب علموں پر دہشت گردی کے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن افغان طالبان ماضی میں پاکستانی طالبان کی اس طرح کی سفاکانہ کارروائیوں سے اظہار لاتعلقی کرتے رہے ہیں اور وہ خود افغانستان میں بھی تشدد کے ایسے واقعات سے لاتعلقی ظاہرکردیتے ہیں جن میں عام شہریوں کا زیادہ جانی نقصان ہوا ہو۔