.

سانحہ پشاور، چھبیس روز بعد تعلیمی ادارے کھل گئے

مشنری ادارے انیس جنوری سے کھلیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں بھی چھبیس دن بعد تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر فوری طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

آرمی پبلک سکول پر سولہ دسمبر کو ہونے والے اس خوفناک حملے میں لگ بھگ ایک سو پچاس افراد شہید ہو گئے تھے۔ ان ایک سو چالیس کے قریب معصوم طلبہ تھے۔

اس عظیم سانحے کے بعد قومی سیاسی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں میں ہم آہنگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا اور ملک میں فوجی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

سولہ دسمبر کے بعد تعلیمی اداروں کی بندش کے ساتھ ہی ان کی سکیورٹی بہتر بنانے، دیورایں اونچی کرنے اور سکیورٹی گارڈز کا بندوبست کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث تعلیمی اداروں کی موسم سرما کی چھٹیوں میں توسیع کر دی گئی تاہم آج بارہ جنوری سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھول دی گئے ہیں۔

پیر کے روز تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے پر آرمی پبلک سکول کے ایک طالبعلم سولہ سالہ شاہ رخ خان سے ملاقات ہوئی تو وہ سخت صدمے کی حالت میں تھا۔ شاہ رخ خان کو اس کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگی تھیں۔

شاہ رخ خان نے کہا'' میرے تیس دوست بچھڑ گئے ہیں، اب میں ان کے بغیر خالی کلاس روم میں کیسے بیٹھوں گا، ان کی خالی ہو جانے والی نشستوں کو کیسے دیکھ سکوں گا۔''

اس زخمی ہونے والے طالبعلم کے زخم تو مندمل ہو سکتے ہیں لیکن اس کے دل پر لگنے والے زخموں کے مندمل ہونے میں شاید بہت وقت لگ جائے ۔ شاہ رخ کا کہنا تھا '' میرا دل ٹوٹ چکا ہے، اب میرا دل سکول میں نہیں لگنے کا۔''

سولہ سالہ زاہد ایوب بھی اس سانحے میں زخمی ہوا تھا تاہم اس نے اس حوالے سے کہا '' میں خوف زدہ نہیں ہوں نہ کوئی طاقت مجھے سکول جانے سے روک سکتی ہے، میں بس اس لیے سکول جاوں گا کہ حملہ آوروں کو بتا سکوں کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔''

پشاور کے علاوہ آج پورے پاکستان میں تعلیم ادراے انتہائی سکیورٹی کے ماحول میں کھول دیے گئے ہیں۔ تاہم اس موقع پر درجنوں تعلیمی اداروں کو غیر معمولی طور پر حساس قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں مسیحی مشنری اداروں نے اپنی چھٹیوں کو انیس جنوری تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔