.

پٹرول بحران: ذمہ دار سزا کے لیے تیار رہیں، نواز شریف

وزیر اعظم کے زیر صدارت متعلقہ وزارتوں کا ہنگامی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جسے پچھلے کئی برسوں سے بجلی اور گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ اب ایک ہفتے سے اس کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اور شمال مغربی سرحد کو چھونے والے خیبر پختونخوا میں پٹرول کی دستیابی بھی سخت مشکل سے دو چار ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی حالیہ تاریخ میں توانائی کے ایسے بحران یا بدانتظامی سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہے جس کا اسے آج سامنا ہے۔ پٹرول پمپوں کی بڑی تعداد تیل کی کمیابی کی وجہ سے بند ہے اور جو کھلے ہیں وہاں تیل کی مطلوب مقدار دستیاب نہیں ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف جن کی حکومت کی کامیابی اس کے توانائی بھران کے کاتمے کے دلفریب نعروں کے مرہونِ منت تھی۔ اس معاملے مین سخت مشکل میں گرفتار ہے۔ پٹرول پمپوں پر صارفین کی لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد باہم دست و گریبان ہونے کی خبریں عام ہیں۔

اس صورت حال میں وزیر اعظم نے آج پیر کے روز اپنی باقی تمام ضروری و غیر ضروری مصروفیات ترک کرکے بحران کی وجوہات کا جائزہ لینے اور مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کی خاطر تمام متعلقہ وزارتوں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے سخت برہمی کے انداز میں کہا ذمہ داروں کو سزا کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

دلچسپ بات ہے کہ وزیر اعظم اپنے سعودی عرب کے دورہ سے واپس آتے ہی چار سیئیر افسران کو معطل کر دیا تھا۔ تاہم ابھی اس بارے میں ذمہ دار کا تعین آج ہونے کا امکان ہے۔

نواز حکومت کی اس نااہلی کا اعتراف دو اہم وزراء نے بھی کیا ہے اور کہا ہے عوام کے لیے پریشانی کا باعث بننے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

جبکہ پٹرولیم کی وزارت کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنے مستعفی ہونے کی مشروط پیش کش کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین وزراء کے ان بیانات کو نواز حکومت کے دیرینہ اندرونی اختلافات کا شاخسانہ بھی سمجھتے ہیں۔

سرکاری حکام نے بھی تیل کے حوالے سے جاری اس بحرانی صورتحال کی ذمہ داری حکومت اور اس کے فیصلہ سازوں پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ حکام حکومت کو بار بار اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے رہے لیکن وزراء یا حکومت کی سطح سے اس کا نوٹس نہیں لیا گیا تھا۔

تاہم امید کی جارہی ہے کہ آج وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت ہونے والے ہنگامی اجلاس کے دوران بحران کے جلد حل کے لیے اقدامات اور اس بحران کے ذمہ داروں کا تعین بھی ہو جائےگا۔ کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اس صورت حال کو حکومت کی سخت ناہلی اور غیر ذمہ داری سے تعبیر کر رہی ہیں۔

دریں اثناء وزیر خزانہ نے اس بحران میں وزارت خزانہ کے ذمہ دار ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تیل کی فراہمی کے لیے اقدامات وزارت خزانہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔