خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر میں طوفانی بارشیں، 45 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں سے مکانوں کی چھتیں گرنے اور سیلاب سے بچوں اور خواتین سمیت پینتالیس افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق حمد غنی نے اتوار کے روز سینتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ بیشتر ہلاکتیں مٹی کے تودے اور مکانوں کی چھتیں گرنے سے ہوئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر عبدالمجید کیانی نے بتایا ہے کہ امدادی کارکنان نے ایک مکان کے ملبے سے آٹھ لاشیں نکالی ہیں۔یہ تمام افراد مکان کی چھت گرنے سے زندہ دب گئے تھے۔مرنے والوں میں تین بچے اور پانچ خواتین تھیں۔

خیبر پختونخوا کی وادیِ پشاور میں مسلسل طوفانی بارشوں سے غازی گڑھی سمیت متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں، بٹہ تھل پل کی مارکیٹ میں سیلابی ریلا داخل ہونے سے ستر سے زیادہ دکانیں بہہ گئی ہیں ۔

صوبے میں بارشوں کے نتیجے میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع کوہستان میں ہوئی ہیں اور وہاں بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ ضلع کے علاقے پالس میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ضلع شانگلہ میں بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے دس افراد مارے گئے ہیں۔ضلع سوات میں دو اور مالا کنڈ ،مانسہرہ ،اپر دیر ،چارسدہ اور چترال میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ بٹگرام کے علاقے شملائے میں مکان کی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق ہوئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے شمال مغربی ضلع چترال کے علاقے ٹھینک شین میں ایک مکان پر پہاڑی تودہ گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔تودے گرنے سے شاہراہ قراقرم کئی مقامات سے بند ہو گئی ہے ۔شدید بارشوں نے بحرین میں بھی تباہی مچائی ہےاور ایک رابطہ پل پانی میں بہہ گیا ہے۔ بارشوں سے دریائے سوات میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے ڈیلا ناران میں برفانی تودہ دریائے کنہار میں گرگیاجس کے نتیجے میں دریا کا رخ بستی کی طرف مڑ گیا اورسات کانات تباہ ہوگئے۔بالاکوٹ کے گاؤں پھاگل کاغان میں بھی گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کوہستان اور مانسہرہ میں مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف مقامات پر سڑکیں بند ہیں اوردو سوسے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔اتھارٹی تمام متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ سے امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں رابطے میں ہے۔اتوار کو بھی مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں