.

مصری فوج پاکستان آرمی کی دہشت گردی مخالف جنگ سے استفادے کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف سوموار کو مصر کے دو روزہ سرکاری دورے پر قاہرہ پہنچے ہیں اور انھوں نے مصر کی فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ پیغام میں بتایا ہے کہ آرمی چیف کا مصری فوج کے ہیڈکوارٹرز میں آمد پر شاندار استقبال کیا گیا اور انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

انھوں نے بعد میں مصر کے چیف آف اسٹاف اور وزیر دفاع سے الگ الگ ملاقات کی۔انھوں نے دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات ،دفاعی اور سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے اور عسکری تربیت کے تبادلے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

طرفین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوششوں اور وسائل کو مربوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔مصر کی فوجی قیادت نے پاکستان آرمی کے دھماکا خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنانے سمیت دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ میں تجربے سے استفادے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے گذشتہ قریباً ایک عشرے کے دوران میں ملک کے شمال مغرب میں واقع وادی سوات ،وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان،اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں مختلف دہشت گرد گروپوں کے خلاف کامیاب جنگیں لڑی ہیں اور ان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت بڑی بڑی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کیا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز اس وقت بھی فاٹا ،سب سے بڑے شہر کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد گروپوں ،بھتا خوروں اور دوسرے جرائم پیشہ گروپوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔دوسری جانب مصرکی سکیورٹی فورسز شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ کے علاوہ دوسرے مسلح گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ان گروپوں نے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی سنہ 2011ء کے اوائل میں اقتدار سے رخصتی کے بعد سر اٹھایا تھا اور جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد ان کی کارروائیوں میں شدت آئی تھی۔

مصر میں برسرپیکار دہشت گرد گروپ دارالحکومت قاہرہ سمیت مختلف شہروں اور تفریحی مقامات میں مصری فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔اب مصری فوج انہی گروپوں کے مکمل قلع قمع کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کے تجربے سے مستفید ہونا چاہتی ہے۔