الطاف حسین سائیڈلائن؟ ایم کیو ایم صرف پاکستان سے کام کرے گی

اشتعال انگیز بیانات اور پھر ان پر معافیوں کا سلسلہ ایک مسئلہ بن چکا ہے :فاروق ستار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیر رہ نما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اب صرف پاکستان سے کام کرنا چاہیے۔ان کا اشارہ لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی کی جانب تھا۔

فاروق ستار نے کراچی پریس کلب میں منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ''ایک مسئلہ موجود ہے اور الطاف حسین کے اشتعال انگیز بیانات اور پھر ان پر معافیوں کا سلسلہ ایک مسئلہ بن چکا ہے اور اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے''۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو صرف اور صرف پاکستان میں کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان کے تین ٹیلی ویژن چینلوں کے دفاتر پر حملوں کے ایک روز بعد یہ گفتگو کی ہے۔ایم کیو ایم کے کارکنان نے یہ حملے سوموار کی صبح الطاف حسین کی ایک اشتعال انگیز تقریر کے بعد کیا تھا۔اس میں انھوں نے پاکستان کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی تھی اور اس کو دہشت گرد اور ناسور تک قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا لیکن منگل کو انھوں نے حسب روایت اس پر معافی مانگ لی اور کہا کہ وہ جوش جذبات میں یہ سب کچھ کہہ گئے تھے۔

ان کے ان اشتعال انگیز بیانات کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین کی لندن میں جماعت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تمام فیصلے پاکستان میں موجود ارکان کریں گے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کو منفی ایک فارمولا کہا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''الطاف حسین اشتعال انگیز بیانات کے بعد عام طور پر معافی مانگتے رہتے ہیں۔یہ ایک ایشو ہے اور پہلے اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ان کے بیانات ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہیں تو پھر پہلے اس ذہنی دباؤ کا حل تلاش کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کے اس طرح کے بیانات سے پوری جماعت کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔اس لیے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے،اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عمومی شعور کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے''۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں اے آر وائی نیوز چینل کے دفتر پر حملے کے دوران پاکستان مخالف نعروں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ''ہم ایسا دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم کراچی میں گذشتہ روز رونما ہونے والے تشدد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔یہ تشدد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے ہماری پالیسی کے بالکل منافی ہے۔جنگجوؤں اور کسی جنگجو ونگ کے لیے ہماری جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''ایم کیو ایم پاکستان ہے۔یہ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان کے قوانین اور آئین کو تسلیم کرتی ہے۔میں آج جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ سب ایم کیو ایم کی پالیسی کے مطابق ہے''۔

ایم کیو ایم کے لندن میں جلا وطن سربراہ الطاف حسین نے سوموار کو اپنی متنازعہ اشتعال انگیز تقریر میں مظاہرین کو ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر حملوں کے لیے اکسایا تھا۔ان حملوں کے الزام میں ایم کیو ایم کے متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں