.

بھارت کے بعد بنگلہ دیش کا سارک سربراہ کانفرنس میں عدم شرکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے بعد بنگلہ دیش نے بھی جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون تنظیم ( سارک) کے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نومبر میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

قبل ازیں بھارت نے گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے علاقے اڑی میں ایک فوجی اڈے پر حملے کو جواز بنا کر سارک سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ بھوٹان اور افغانستان نے بھی مبینہ طور پر سارک سربراہ اجلاس میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اُڑی میں فوجی اڈے پر جنگجوؤں کے مبینہ حملے کے بعد شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔ اس پُراسرار حملے میں اٹھارہ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔بھارت نے سرحد پار سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے لیکن پاکستان نے اس سے ہر طرح کی لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

بنگلہ دیش کے جونیئر وزیر خارجہ شہریار عالم نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔

بھارتی میڈیا نے ڈھاکا کے اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ ایک ملک بنگلہ دیش کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے۔تاہم بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا ہے۔البتہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو 1971ء کی جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات میں دی جانے والی پھانسیوں پر پاکستان احتجاج کرتا رہا ہے اور بنگلہ دیش پاکستان کی جانب سےاس احتجاج اور جماعت اسلامی کے مظاہروں کو اپنے داخلی امور میں مداخلت قرار دیتا چلا آ رہا ہے۔

جنوب ایشیائی امور کے تجزیہ کار اشوک مالک کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے سارک سربراہ کانفرنس میں عدم شرکت کے فیصلے سے پاکستان پر عملی طور پر بہت تھوڑے اثرات مرتب ہوں گے۔البتہ وہ چین کے مزید قریب آسکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے سارک اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلے پر پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ علاقائی تعاون اور امن کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔اس نے بھارت پر اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی سازشوں کے الزام کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ''بھارت جو بہانے تراش رہا ہے،اس کے پیش نظر دنیا جانتی ہے کہ یہ بھارت ہے جو پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی سازشیں کررہا ہے اور اس کے لیے رقوم مہیا کررہا ہے۔انھوں نے صوبہ بلوچستان سے پکڑے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیا۔ پاکستان ماضی میں بھی متعدد مرتبہ بھارت پر شمال مغربی صوبہ بلوچستان میں مداخلت اور شورش پسندوں کی حمایت کے الزامات عاید کرچکا ہے۔