.

پاکستان بھارت سے جنگ نہیں،امن چاہتا ہے: نواز شریف

کاشتہ اراضی پر ٹینک چڑھا کر پاکستان اور بھارت سے غربت ختم نہیں کی جاسکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں، امن کا خواہاں ہے اور وہ تمام تصفیہ طلب امور کو جامع مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

وہ بدھ کے روز اسلام آباد میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اجلاس میں آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واقع لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان حالیہ کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورت حال ،کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے مگر اس کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ہماری مسلح افواج کسی بھی غیرملکی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری قوم ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود بھارت کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو نہیں دبا سکا ہے۔نوجوان حریت لیڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک نئے موڑ پر آگئی ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کشمیریوں سے تاریخی،سیاسی ، مذہبی ، جغرافیائی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ہم کشمیریوں کی ان کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد میں تمام ممکنہ سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔

نواز شریف نے ایوان کو بتایا کہ ان کی حکومت نے تمام عالمی فورموں پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ اٹھایا ہے۔حکومت صورت حال کی نزاکت سے بخوبی آگاہ ہے اور سفارتی محاذوں پر ملک کا دفاع کر رہی ہے۔بھارت مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عاید کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اُڑی میں اپنے فوجیوں پرمبینہ حملے کے واقعے سے چند گھنٹے کے بعد ہی کسی تحقیقات کے بغیر پاکستان پر الزامات لگانا شروع کر دیے تھے۔پاکستان نے اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس واقعے کو جواز بنا کر بھارتی فورسز نے 28 ستمبر کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔اس سے ہمارے دو فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔تاہم پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا مُنھ توڑ جواب دیا تھا اور انھیں یہ باور کرا دیا تھا کہ پاکستان آرمی کسی بھی جارحیت کا مسکت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کا بھی جواب دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو غربت کے خاتمے کے لیے مل کر جنگ لڑنی چاہیے۔ میاں نواز شریف نے کہا:'' اگر وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ مل کر غُربت کے خاتمے کے لیے لڑیں تو انھیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ غربت زرعی زمینوں پر ٹینک چڑھا کر ختم نہیں کی جاسکتی ہے''۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خون اور بارود کے ساتھ بے روزگاری ختم کی جاسکتی ہے اور نہ شہریوں کی بھلائی کے لیے کچھ کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے بعد قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد خورشید احمد شاہ نے تقریر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ''پاکستان بین الاقوامی منظرنامے میں خود کو تنہا کیوں محسوس کرتا ہے؟ ہماری خارجہ پالیسی کمزور کیوں ہے اور ہم تنہا کیوں ہیں؟ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا اور مستقبل کے لیے بہتر راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔

خورشید شاہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے جوش جذبات میں غلطی سے بلوچستان سے گرفتار کیے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ''کلبھوشن وانی'' کہہ گئے جس پر ایوان میں خوب قہقہہ پڑا۔

ان کے بعد پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین مولانا فضل الرحمان نے تقریر کی۔انھوں نے کہا کہ ہم سے اُڑی حملے کی مذمت کے لیے کہا جارہا ہے لیکن ان بے گناہ اور بے یارومددگار کشمیریوں پر بھارت کے مظالم کی مذمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جارہا ہے۔ان مظالم کی بھی مذمت کی جائے۔

پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور ان کی جماعت کے ارکان نے شرکت نہیں کی ہے۔انھوں نے منگل کے روز پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں،اس لیے وہ ان کے ساتھ ایوان میں نہیں بیٹھ سکتے۔انھوں نے سوموار کے روز حکومت کی دعوت پر کل جماعتی کانفرنس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔