بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے چار کم سن کشمیری شہید
بھارتی فوجیوں کی آزاد کشمیر میں حد متارکہ جنگ ( لائن آف کنٹرول ) کے ساتھ واقع دیہات پر بلااشتعال فائرنگ سے تین کم سن بچیاں اور ایک لڑکا شہید اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
بھارتی فوجیوں نے آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل چڑھوئی کے کیری سیکٹر میں ہفتے کے روز فائرنگ اور گولہ باری کی ہے۔اسسٹینٹ کمشنر چڑھوئی راجا عارف محمود نے بتایا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے صبح پونے دس بجے گولہ باری شروع کی تھی۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''ایک گولہ گاؤں سبز کوٹ میں ایک مکان پر گرا تھا جس سے اٹھارہ سالہ لڑکا شہزاد اور اس کی دو بہنیں دس سالہ فائزہ ،بارہ سالہ شانزا اور ان کی ایک پانچ سالہ کزن اریبہ شہید ہوگئی ہے''۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شہزاد کے بھائی محمود اور اریبہ کی بڑی بہن اقرا کو تشویش ناک حالت کے پیش نظر کمبائنڈ ملٹری اسپتال منگلا منتقل کر دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے جنوبی ضلع بھمبر کی دو تحصیلوں سماہنی اور برنالہ میں لائن آف کنٹرول پر واقع دیہات پر بھی گولہ باری کی گئی ہے۔سماہنی کے ایک گاؤں بروح پر بھی علی الصباح تین بجے سے شدید گولہ باری کی گئی ہے جس سے ایک خاتون زخمی ہوگئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا مسکت جواب دیا ہے۔
اسی ہفتے کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے سات پاکستانی فوجی شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمبے والے کو طلب کیا تھا اور ان سے فوجیوں کی شہادت پر احتجاج کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کم وبیش روزانہ ہی فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔