.

عدالت ِعظمیٰ پاناما گیٹ کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاناما گیٹ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے نئے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاناما لیکس اسکینڈل کی سماعت کے لیے ایک نئی بڑی بینچ تشکیل دی ہے اور خود کو اس سے الگ کر لیا ہے۔ ا س بینچ نے بدھ کے روز مقدمے کی پہلی مرتبہ سماعت کی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب اس مقدمے کی کارروائی میں کوئی التوا نہیں کیا جائے گا ۔

آج جب سماعت شروع ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے گذشتہ سال کے اوائل میں قومی اسمبلی سے خطاب میں غلط بیانی سے کام لیا تھا اور اپنے اثاثوں سے متعلق ارکان پارلیمان کوگم راہ کیا تھا۔

انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ملک سے باہر لندن میں رقوم بھیجی تھیں۔ان کا موقف تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے لیکن عدالت نے انھیں باور کرایا کہ انھیں اس مقدمے میں پہلے فریق نہیں بنایا گیا ہے۔

عدالت نے نعیم بخاری کو سماعت کے دوران یہ بھی حکم دیا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ آیا وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز 2006ء سے قبل خرید کی گئی آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں یا نہیں۔اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ لندن میں پارک لین کے دو فلیٹ 16 اور 16 اے 1995ء میں 75 ہزار پاؤنڈز میں خرید کیے گئے تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نومبر میں عدالت میں سابق قطری وزیراعظم کی جانب سے ایک تصدیق شدہ خط پیش کیا گیا تھا اور اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ لندن کے یہ دونوں فلیٹ شریف خاندان سے قبل قطر کے آل ثانی خاندان کی ملکیت تھے لیکن عدالت میں ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ دونوں فلیٹ آل ثانی خاندان کی ملکیت رہے تھے۔

جج نے پی ٹی آئی کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ پارک لین فلیٹوں کی خرید پر اٹھنے والی رقم کے ذریعے کے بارے میں بتائیں کیونکہ ان کی خریداری کے لیے تین مختلف ذرائع سے رقوم کی ترسیل کی بابت عدالت کو بتایا گیا ہے۔

ان میں پہلے نقطہ نظر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رقوم قطر سے دبئی بھیجی گئی تھیں جبکہ دوسرے کے مطابق رقوم دبئی سے جدہ منتقل کی گئی تھیں اور تیسرے کے مطابق رقوم قطر سے لندن بھیجی گئی تھیں۔انھوں نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک مقام سے رقوم کی ترسیل کے بارے میں بتائیں۔

قطری خط میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ لندن میں پارک لین میں واقع فلیٹ میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے خرید کیے تھے اور دبئی اسٹیل ملز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم سے یہ خرید کیے گئے تھے۔

اس حوالے سے جسٹس کھوسہ نے نعیم بخاری سے یہ بھی استفسار کیا کہ'' کیا فلیٹوں میں یہ سرمایہ کاری اتنی منافع بخش تھی کہ 1980ء سے 2006ء تک اس نے اربوں کما لیے ہیں؟'' اس کے جواب میں نعیم بخاری نے وزیراعظم میاں نواز شریف پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے دبئی میں بے نامی رقوم بھیجی تھیں۔انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دبئی اسٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کا دس فی صد دبئی کی حکومت کو ادا کیا گیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے سیاست دانوں کے عدالت عظمیٰ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور سیاسی رہ نماؤں سے کہا کہ وہ عدالت کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائیں۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی سماعت سے ایک روز قبل وزیراعظم میاں نواز شریف ،ان کے بچوں اور داماد نے اپنے وکلاء تبدیل کردیے تھے۔قانونی ماہرین کے نزدیک انھوں نے کیس کو طول دینے کے یہ حربہ اختیار کیا ہے کیونکہ نئے وکلاء کو کیس کے مطالعے کے لیے وقت درکار ہوگا۔اب عدالت میں وزیراعظم کا دفاع مخدوم علی خان کریں گے،ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے خاوند ریٹائرڈ کپتان محمد صفدر کے وکیل ایڈووکیٹ شاہد حامد ہوں گے اور سلمان اکرم راجا حسین نواز کی جانب سے عدالت میں پیش ہوں گے۔