الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ کے اجراء کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی وزارت داخلہ نے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے قائد الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ریڈ وارنٹ بین الاقوامی فوجداری پولیس تنظیم (انٹرپول) کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس کی بنیاد پر مطلوبہ شخص کو گرفتار کرکے میزبان ملک سے بے دخل کرسکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد پاکستان کو دہشت گردی ،لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور سنگین غداری سمیت مختلف جرائم میں مطلوب ہیں۔

وزارت داخلہ نے انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔ یہ عدالت الطاف حسین کے خلاف 22 اگست کو ریاست مخالف تقریر کی بنیاد پر قائم تین ایک ہی جیسے مقدمات کی سماعت کررہی ہے۔

پولیس ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کنور نوید جمیل ،قمر منصور اور شاہد پاشا کے خلاف الطاف حسین کی اس تقریر کو سننے کا اہتمام کرنے پر فرد الزام عاید کرچکی ہے۔اسی کیس میں عدالت نے الطاف حسین ،ڈاکٹر فاروق ستار ، خواجہ اظہار الحسن ،ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ایم کیو ایم کے دوسرے لیڈروں کو مفرور قرار دے رکھا ہے۔

ان تینوں کیسوں کی ابتدائی اطلاعی رپورٹس (ایف آئی آرز) کا تین عام افراد کی شکایات پر اندراج کیا گیا تھا۔ان مقدمات کی گذشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے مفرور ملزموں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے بانی قائد کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کریں۔

واضح رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016ء کو ریاست پاکستان کے خلاف ایک تند وتیز تقریر کی تھی۔اس کے بعد کراچی ،کوئٹہ اور گلگت ،بلتستان کے علاقوں میں الطاف حسین کے خلاف متعدد کیسوں کا اندراج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالتیں ان کی سماعت کررہی ہیں۔یہ عدالتیں پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں۔

یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف لندن میں ایم کیو ایم کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے کے الزام کی بھی تحقیقات گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔

برطانیہ کی تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 13 اکتوبر 2016ء کو الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے سینیر لیڈر محمد انور اور ایک کاروباری شخص سرفراز مرچنٹ کے خلاف بھی کئی ماہ کی تفتیش کے بعد منی لانڈرنگ کے کیس ختم کردیے تھے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تھے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف جولائی 2013ء میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انھیں پولیس نے اس مقدمے میں 3 جون 2014ء کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا تھا لیکن انھیں خرابیِ صحت کی بنا پر ولنگٹن اسپتال منتقل کردیا گیا تھا اور پھر تھانے میں نو گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد پانچ مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔

برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں لندن کے علاقے ایجویئر روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے پانچ لاکھ سے زیادہ پاؤنڈز کی نقد رقم اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بہ قول ان میں جدید اسلحے کی خریداری سے متعلق بھی دستاویزات شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں