.

’’صدر ٹرمپ نے دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی نفی کی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ملک کے خلاف حالیہ الزامی بیان پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان الزامات سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم کی قربانیوں کی نفی کوشش کی گئی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت ہوا اور اس میں اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور اس کی معیشت کو اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان کے مطابق ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا ہے لیکن ان قربانیوں کا بے دلی سے بھی ذکر نہیں کیا گیا اور ان پر مالی قدر کو ترجیح دی جارہی ہے‘‘۔

بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ امریکا نے ’’ بے وقوفی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو گذشتہ پندرہ سال میں 33 ارب ڈالرز امداد کی شکل میں دیے ہیں۔

بیان کے مطابق ’’امریکی صدر کے الزامات مکمل طور پر غیر منطقی ہیں اور یہ حقائق کے بھی منافی ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان نسلوں کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے اور انھوں نے پاکستانی قوم کی عشروں کی قربانیوں کی بھی نفی کردی ہے‘‘۔

این ایس سی نے کہا کہ امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 123 ارب ڈالر زکا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اب پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی خفیہ ٹھکانا نہیں ہے ۔امریکا افغان جنگ میں ناکامی کی وجوہات افغانستان کے اندر تلاش کرے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اس ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ، انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور بعض وفاقی وزراء کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی ۔

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے شرکاء کو امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ اجلاس میں واشنگٹن میں متعیّن پاکستان کے سفیر اعزاز چودھری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ انھیں ہنگامی طور پر امریکا سے بُلایا گیا تھا ۔

قبل ازیں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیرصدارت راول پنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں قومی سلامتی اور خطے کی صورت حال سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آنے والے نکات پربھی غور کیا گیا۔

آڈٹ کی پیش کش

این ایس سی کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب ڈالرز امداد دینے کا ذکر کیا ہے ،وہ ہمارے خرچ پر اس رقم کا آڈٹ کرائیں تاکہ دنیا کو پتا چل سکے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون دھوکا دے رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امریکی صدر کے پاکستان پر عاید کردہ بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ صدر ٹرمپ چاہیں تو آڈٹ کے لیے کسی بھی امریکی فرم کی خدمات حاصل کرلیں اورپاکستان کو دی گئی رقم کا ہمارے خرچ پر آڈٹ کرالیں۔اس سے یہ پتا چل جائے گا کہ امریکی صدر غلط ہیں۔